شیریں مزاری کی امریکی سفیر کے خلاف ٹویٹ اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے لیے امریکی امداد میں کیا تعلق ہے؟
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے امریکی سفیر کے پاک افغان سرحدی علاقے طورخم کے دورے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان علاقوں میں تو عام پاکستانی بھی قدم نہیں رکھ سکتے۔
اتوار کو سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے ٹویٹ کیا کہ ’امریکی سفیر اور ان کا گینگ حساس علاقوں پر پرواز کر رہے ہیں اور ان کو بریفنگ بھی میسر ہے۔‘
انہوں نے امریکی سفیر کے طورخم دورے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کیا امریکی سفیر وائسرائے ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی دورے میں چار اگست کو امریکی سفیر ڈیوڈ بلوم نے خیبرپختونخوا کا دورہ کے وزیراعلٰی اور وزیر صحت سمیت اعلٰی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔
دورے کے دوران امریکی سفیر نے محکمہ صحت خیبر پختونخوا کو 36 ایمبولینس کی چابیاں حوالے کیں۔
انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان اچھے تعلقات کا بھی ذکر کیا اور کہا تھا پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں امداد کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیراعلٰی محمود خان نے کہا تھا کہ صوبائی حکومت اور صوبے کے عوام مختلف شعبوں میں امریکی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
شیریں مزاری کی ٹویٹ پر صارفین دلچسپ تبصرے کرتے ہوئے لکھ رہے ہیں کہ یا تو یہ لوگ نشے میں رہتے ہیں یا پھر اعلیٰ درجے کے جھوٹے اور منافق ہیں۔
متعدد صارفین نے شیریں مزاری کو ٹوئٹر پر بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا میں اُن کی جماعت کی حکومت ہے جو امریکی امداد لے رہی ہے۔

