لاپتہ افراد متعلق حکومتی کمیٹی کی کارروائی سست روی کا شکار
اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر جبری لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کیلئے قائم کردہ حکومتی کمیٹی کی کارروائی ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی سست روی کا شکار ہے۔
عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتہ افراد کے کیس کی طویل سماعت کے بعد یہ حکم دیا تھا کہ اگر ذمہ دار ریاستی اہلکاروں کی برطرفیوں اور لاپتہ افراد کی بازیابی سمیت ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ۹ستمبر کو وزیراعظم کو طلب کیا جائے گا۔عدالت نے ۴جولائی کو یہ حکم دیا تھا۔
عدالتی حکم کے بعد وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ایک حکومتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا تھا لیکن اس کے بعد کمیٹی کے اگلے اجلاس کے بارے میں کچھ اطلاعات نہیں ہیں۔
حکومتی کمیٹی کی جانب سے طویل عرصے سے لاپتہ افراد کی وکالت کرنے والے نڈر اور بے باک ایڈووکیٹ انعام الرحیم کو مدعو نہ کرنا بھی اس کمیٹی کی ساکھ پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ انعام الرحیم فوجی قوانین سے بھی واقف ہیں اور سچ بولنے کی پاداش میں انہیں بھی لاپتہ کیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو انسانی حقوق کے حوالے سے دیکھا جانا چاہئے۔ سالہا سال سے لوگ اپنی پیاروں کی تلاش اور رہائی کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اسلئے اس انتہائی اہم مسئلے کے حل کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔ اگر کسی کا کوئی قصور ہے تو عدالت کے روبرو پیش کیا جائے اور بے گناہوں کو فوری بازیاب کیا جائے۔

