بلوچستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں،مکانات منہدم،مزید سات افراد ہلاک
پاکستان کے صوبے بلوچستان کے متعدد علاقوں میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں جس سے متعدد مکانات منہدم ہو گئے اور مزید سات افراد زندگی لی بازی ہار گئے۔
بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے ازالے اور متاثرین کی بحالی کے لیے کم از کم 35 ارب روپے کی ضرورت ہے۔
ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل یاسر دشتی کے مطابق سلیمان پہاڑی سلسلے میں گزشتہ روز آٹھ سے 10 گھنٹے مسلسل اور طوفانی بارش ہوئی جس کی وجہ سے پہاڑوں سے آنے والے پانی نے ریلوں کی شکل میں آبادیوں کا رخ کرلیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحصیل درگ اور سب تحصیل راڑہ شم سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور سینکڑوں مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق کنگری، توئی سر، درگ، زمری، تیر ایسوٹ میں نو افراد ہلاک ہوئے جن میں دو بچے چھت گرنے سے اور باقی سات افراد سیلابی ریلوں میں بہنے سے ہلاک ہوئے۔ تمام افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل نے بتایا کہ ضلعے کے بیشتر دیہاتوں کا آپس میں رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ درگ تا موسیٰ خیل کا راستہ جو ضلعے کو پنجاب سے ملاتا ہے، اب تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند ہے تاہم کنگری کے راستے کو جزوی طور پر بحال کردیا گیا ہے۔
صوبائی ڈیزاسسٹرمینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے) کے مطابق بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 196 تک پہنچ چکی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق شمال مشرقی بلوچستان میں مون سون کا طاقت ور سسٹم موجود ہے،شمال مشرقی بلوچستان میں بھی مزید بارشیں متوقع ہیں۔

