پاکستان

دو روزہ جسمانی ریمانڈ، شہباز گل ایک بار پھر پولیس کے حوالے

اگست 17, 2022

دو روزہ جسمانی ریمانڈ، شہباز گل ایک بار پھر پولیس کے حوالے

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کو مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

بدھ کو ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کی عدالت نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ مسترد ہونے کے خلاف پراسیکیوشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت مکمل کر کے فیصلہ سنایا.

سپیشل پبلک پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے ریمانڈ کے حق میں جبکہ شہباز گل کے وکلا سلمان صفدر اور شعیب شاہین نے مخالفت میں دلائل پیش دیے۔

سپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ‏دھمکیوں اور چوری کے مقدمات میں بھی 8 دن کا جسمانی ریمانڈ لیتے ہیں جبکہ یہ بغاوت کا مقدمہ ہے۔

پراسیکیوٹر کے مطابق’تفتیش مکمل کرنے کے لیے مناسب وقت دینا ضروری ہے۔ اس کیس میں جسمانی ریمانڈ تفتیش کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ملزم کا جسمانی ریمانڈ میں تمام اہم سوالوں کے جوابات جاننا اہم ہیں۔‘

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ‏’شہباز گل نے سادہ فون دیا، سمارٹ فون برآمد نہیں کیا جا سکا‘.

پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم کے موبائل سے صرف ڈیٹا حاصل کرنا ہوتا تو وہ جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے، لیکن ڈیٹا حاصل کر کے تفتیش کرنا اس کیس میں ضروری ہے۔

’یہ سارا مقدمہ ملزم کی جانب سے دیے گئے بیان سے متعلق ہے۔ تفتیش کے دوران شواہد حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔‘

سپیشل پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ‏شہباز گل نے گرفتاری کے وقت سادہ فون دیا تھا، اصل سمارٹ فون تاحال برآمد نہیں کیا جاسکا۔

سماعت کے دوران پولیس کے تفتیشی افسر نے ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کیا۔

شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر نے اپنے دلائل میں درج ایف آئی آر پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے جو بات کی ہے وہ غیر مناسب ہو سکتی ہے لیکن جرم کے زمرے میں نہیں آتی۔ شہباز گل نے اپنے بیان کو تسلیم کیا ہے۔ ریمانڈ حاصل کرنے کا مقصد سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے مزید تشدد کرنا ہے۔‘
’میں یہ مانتا ہوں کہ جو کہا گیا وہ نہیں کہنا چاہیے لیکن یہ بغاوت یا بغاوت پر اکسانے کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ اس پر کریمنل کیس نہیں بنتا۔‘
انہوں نے ایمان مزاری پر فوج کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی ار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایمان مزاری کی جانب سے غیر مشروط معافی پر ایف آئی آر خارج کر دی تھی۔

وکیل سلمان صفدر نے کہا ’آپ نے دیکھنا ہے کہ مجسٹریٹ نے کیا زیادتی کی ؟ اس کیس میں ملزم کو گھیرا ڈال کر گاڑی کے شیشے توڑ کر گرفتار کیا گیا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موبائل ملزم سے لیا گیا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آج کل کے دور میں کوئی اپنے موبائل کے بغیر گھر سے نکلے۔‘

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ درج کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے اجازت لی گئی؟

سلمان صفدر نے شہباز گل کا بیان عدالت میں پڑھ کر سنایا کہ اور کہا کہ اس میں حب الوطنی جھلکتی ہے۔ اس میں صرف ایک جملہ نا مناسب تھا لیکن وہ بھی جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے