نااہلی فیصلے پر نظر ثانی اپیل دائر
سابق وزیراعظم نوازشریف نے نااہلی کے فیصلے پر نظرثانی اپیل سپریم کورٹ میں دائرکی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بیس اپریل کے عدالتی فیصلے میں تین ججوں نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیا تھا جس کی رپورٹ پر تین ہی ججوں نے سماعت کی تھی اس لیے اٹھائیس جولائی کو پانچ ججوں کی جانب سے نااہلی کا حکم نامہ قانون کے خلاف ہے۔ نظرثانی اپیل میں نوازشریف کے وکیل نے موقف اختیار کیاہے کہ عدالتی فیصلے میں اثاثے کی تعریف درست طورپر نہیں کی گئی اور بلیک لاءڈکشنری میں اثاثے کی وہ تعریف موجود نہیں جو سپریم کورٹ نے لکھی ہے۔ نظرثانی اپیل میں کہا گیاہے کہ نیب عدالت کے ٹرائل پر عدالت عظمی کا نگران جج مقرر کرنا آئین کے خلاف ہے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کی نوکریوں کو تحفظ دینا بھی آئین کی خلاف ورزی ہے اور اس سے شریف خاندان کے مقدمات میں شفاف ٹرائل کا اصول متاثر ہوگا۔ چھ سو اٹھاون صفحات کی اپیل میں نظرثانی کے نکات چونتیس صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں جن میں بیس اپریل کے عبوری فیصلے اور اٹھائیس جولائی کے حتمی حکم نامے کو چیلنج کیاگیاہے۔ نظرثانی اپیل میں کہاگیاہے کہ بیس اپریل کو فیصلہ دینے کے بعد عدالت عظمی کے دد جج دوبارہ مقدمے کی سماعت اور فیصلے میں نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ نظرثانی اپیل کے ساتھ عدالتی فیصلے کو معطل کرکے عبوری ریلیف کی درخواست بھی دائر کی گئی ہے جس میں کہاگیاہے کہ اپیل کے فیصلے سے پہلے اگر حتمی فیصلے پر عمل ہواتو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔

