ڈسکہ دھاندلی میں ملوث افسران کو ہائیکورٹ نے کلین چِٹ دے دی
لاہور ہائیکورٹ نے ڈسکہ ضمنی انتخاب کے دوران بے ضابطگی میں ملوث افسران کے خلاف الیکشن کمیشن کی کاروائی کالعدم قرار دے دی ہے۔
عدالت نے الیکشن کمیشن کی کارروائی کے خلاف دائر تمام درخواستیں منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ افسران کے خلاف مس کنڈیکٹ پر متعلقہ محکموں کے افسران کاروائی کر سکتے تھے۔
جسٹس شجاعت علی خان نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں۔
درخواست گزار سابق ڈی سی سیالکوٹ سمیت دیگر افسران نے الیکشن کمیشن کی کارروائی کو چیلنج کیا تھا۔
آصف حسین، ذیشان جاوید، بدر منیر ، حسن اسد، محمد اقبال سمیت دیگرز نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے ان تمام افسران کو دھاندلی میں ملوث قرار دیا تھا جنہوں نے پریذائڈنگ افسران کو اغوا کر کے تحریک انصاف کے امیدوار کے حق میں نتائج بدلے تھے۔

