اعظم سواتی کی متنازع ٹویٹس، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ سنا دیا
متنازع ٹویٹس کے مقدمے میں گرفتار تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے.
قبل ازیں اعظم سواتی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد ظاہر کرنے کا خط واپس لے لیاتھا۔
پیر کو اعظم سواتی کے بیٹے بیرسٹر عثمان نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ پر عدم اعتماد کا خط پہلے عدالت میں پیش کیا اور پھر واپس لے لیا۔
اعظم سواتی کی درخواست ضمانت پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے کی۔
اعظم سواتی کے وکیل بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ اعظم سواتی کے بیٹے عدالت کے سامنے اپنا مؤقف رکھنا چاہتے ہیں۔
اعظم سواتی کے بیٹے نے کہا کہ اُن کے والد نے ایک خط لکھا تھا، عدالت کی اجازت سے خط پڑھنا چاہتے ہیں جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ خط عدالت کے سامنے موجود ہے، اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے طے کرنا چاہتے ہیں، اس پر لارجر بینچ تشکیل دیں گے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ خط آجاتا ہے کہ جج جانبدار ہے، اس قسم کے خطوط عدالت عمومی طور پر نہیں دیکھتی۔
بابر اعوان نے کہا کہ عدالت آج ہی اس معاملے کو دیکھ لے، جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ آج ہی لارجر بینچ کی تشکیل ممکن نہیں۔
بابر اعوان کا کہنا تھا اعظم سواتی کے بیٹے سے انہوں نے درخواست کی ہے وہ یہ خط واپس لے لیں۔
اعظم سواتی کے بیٹے نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ پر عدم اعتماد کا خط واپس لے لیا۔
عدالت نے ضمانت کی درخواست پر دلائل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا.

