’فلک سر‘ کی چوٹی سر کرنے کے بعد اُترتے ہوئے حادثہ، ’لاش کو لانا ممکن نہ تھا‘
خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے بلند ترین پہاڑ ’فلک سر‘ کی چوٹی سر کرنے کے بعد اُترتے ہوئے ایک حادثے میں مقامی کوہ پیما کی موت ہو گئی اور اُن کی لاش رسی سے بندھی ہوئی دس دنوںسے وہیںموجود ہے-
پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے چھ کوہ پیماؤں نے دس جولائی کو سوات کے پہاڑ فلک سر کی کامیاب مہم جوئی کی اور واپسی پر ایک کوہ پیما کو حادثہ پیش آیا-
سوات کے ضلعی حکام کے مطابق مرنے والے کوہ پیما کی شناخت سید علی شاہ میاں کے نام سے ہوئی ہے جو مقامی ہیں-
مہم سے واپس آنے والے کوہ پیماؤں نے ضلع کے حکام کو حادثے کے حوالے سے بتایا-
سوشل میڈیا پر حادثے کا شکار ہونے والے کوہ پیما سید علی شاہ میاںکو اُن کے دوست اور جاننے والے خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں-
فلک سر پہاڑ کی چوٹی پانچ ہزار 918 میٹر بلند ہے اور بعض کوہ پیما اس کو غیر رسمی طور پر ’منی کے ٹو‘ جبکہ سوات کے مقامی لوگ اس کو ’کے ٹو‘ پکارتے ہیں۔
چھ کوہ پیماؤں کی اس ٹیم کے گروپ لیڈر محمد عباس کا تعلق مردان سے تھا۔ جنہوںنے میڈیا کو حادثے کی تفصیلات بتائیں-
ان کا کہنا تھا کہ گیارہ جولائی کو کامیاب مہم سے واپسی پر اترتے وقت جب سید علی شاہ لگائی گئی رسیاں ہٹا رہے تھے تو ایک حادثے کا شکار ہوئے-
محمد عباس کے مطابق سید علی شاہ گرتے ہوئے ڈھلوان سے نیچے گئے اور رسی سے لٹک رہے تھے اور ایسے لگا کہ اُن کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی ہے-
گروپ لیڈر نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ساتھی کے ساتھ پوری رات بسر کی مگر صبح کے وقت سید علی شاہ کی موت واقع ہو گئی-
ان کا کہنا تھا کہ جس جگہ حادثہ پیش آیا اور سید علی شاہ رسی سے لٹک رہے تھے وہاں سے اُن کو نیچے لانا صرف ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہی ممکن ہے-
حادثے کا شکار ہونے والے سید علی شاہ میاں نے سوگواران میں بیوہ اور تین بچے چھوڑے ہیں-

