عمران خان کی بہن نورین نیازی اور سوشل میڈیا اینکر کو ’وائرل کلپ‘ پر سائبر کرائم کا نوٹس
پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیرِاعظم عمران خان کی بہن نورین نیازی اور ان کے ساتھ انٹرویو میں نظر آنے والے ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر ’ریاستی اداروں کو بدنام کرنے اور جھوٹا، توہین آمیز اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے‘ کے الزام میں طلبی کے نوٹس جاری کیے ہیں۔
این سی سی آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر نے نورین نیازی کو ہدایت کی ہے کہ وہ 20 جولائی (پیر) کو تحقیقاتی افسر کے سامنے ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔
خیال رہے کہ یہ نوٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک انٹرویو کے کلپ کے بعد جاری کیا گیا ہے، جس میں انھوں نے مبینہ طور پر پاکستانی فوج اور ’معرکہِ حق‘، انڈیا کے وزیراعظم مودی، امریکی صدر ٹرمپ اور ابراہم اکارڈ سے متعلق متنازع گفتگو کی تھی۔
وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے نورین نیازی کے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے پی ٹی آئی قیادت پر ریاست مخالف بیانیہ اپنانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس معاملے پر قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر متعدد اکاؤنٹس سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جس انٹرویو سے یہ کلپ لے کر وائرل کیے گئے وہ تین ماہ قبل ریکارڈ کیا گیا تھا اور نورین نیازی نے اس حصے کو نشر نہ کرنے کی درخواست بھی کی تھی-
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر، اسلام آباد کی جانب سے 18 جولائی 2026 کو نورین نیازی اور اینکر احتشام کو طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے۔
نوٹس کے مطابق نورین نیازی کو 20 جولائی 2026 کو دوپہر 12 بجے اسلام آباد میں ایجنسی کے دفتر طلب کیا گیا۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ انکوائری میں سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ’جھوٹا، اشتعال انگیز اور توہین آمیز مواد‘ پھیلانے اور ریاستی اداروں کے خلاف منفی بیانیہ فروغ دینے کے الزامات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

