تیز رفتار کار نے موٹر سائیکل سوار کو کچل دیا، اسلام آباد پولیس تفتیش میں ناکام
اسلام آباد پولیس دس دن گزرنے کے بعد بھی مارگلہ روڈ پر تیز رفتار کار کے ذریعے نوجوان موٹر سائیکل سوار کو کچلنے کے مقدمے کی تفتیش میں پیش رفت میں ناکام ہے۔
شہر کی مصروف شاہراہ پر 9 فروری کی رات اوور سپیڈنگ کرتے ہوئے ایک کار نے بیکن ہاؤس سکول کے سامنے نوجوان موٹر سائیکل سوار سلیمان بابر کو کچل دیا تھا جس کی موت واقع ہوئی۔
پولیس کے مطابق تیز رفتار کار ہنڈا سوک نمبر اے ڈی ایس 602 کو بھارہ کہو کا رہائش سید باقر چلا رہا تھا جس کی عمر 24 برس ہے۔
حیرت انگیز طور پر پولیس کے تفتیشی افسر فیصل تاحال سیف سٹی سے وقوعے کی فوٹیج حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گاڑی اوور سپیڈ میں تھی اس لیے فوٹیج درست کیپچر نہیں ہو رہیں۔
he dragged him 85 steps away from where he hit him this is the only cctv footage we have its so painful to watch and then knowing that his murderer gets to live and move on with his life like nothing happened, i have nothing else to say. pic.twitter.com/K4nFhrBoB9
— s. (@sanalowkeybhutt) February 18, 2023
متوفی سلیمان بابر کی بہن نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے بیکن ہاؤس سکول کے گیٹ پر لگے کیمرے سے حاصل کی گئی فوٹیج ٹویٹ کی جس میں تیز رفتار کار آگے جانے والے موٹر سائیکل کو پیچھے سے ہٹ کرنے کے بعد گھسیٹتے ہوئے لے کر جا رہی ہے۔
متوفی کی بہن کے ٹویٹس کے مطابق پولیس نے کسی بھی قسم کا تعاون نہیں کیا اور اُن کو خود فوٹیج حاصل کرنا پڑیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس تفتیشی نے چھ دن تک انتظار کیا جس کے بعد ملزم نے عدالت نے ضمانت قبل از گرفتاری کرا لی۔
جب اس حوالے سے تفتیشی افسر سے سوال کیا گیا تو اُنہوں نے بتایا کہ ملزم کو ٹریس نہیں کیا جا سکا اور اس دوران ضمانت کرا لی گئی جبکہ اگلی سماعت 28 فروری کو ہے۔
تفتیشی افسر کے مطابق حادثے کا باعث بننے والی گاڑی رینٹ اے کار والوں کی ہے۔
ٹوئٹر پر صارفین کی بڑی تعداد نے اسلام آباد پولیس کی کارکردگی پر مایوسی اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے جو ایک حادثے کی درست تفتیش کرنے میں بھی ناکام ہے جس میں واضح طور پر گاڑی اوور سپیڈنگ کر رہی ہے۔
متوفی سلیمان بابر کی بہن کے مطابق کار ڈرائیور کے پاس لائسنس تک نہیں اور پولیس تفتیش میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے جو ملزم کے وقوعہ کے چھ بعد دن ضمانت حاصل کرنے سے واضح ہے۔

