سپریم کورٹ: دو ججوں پر تین سیاسی جماعتوں کا کھلی عدالت میں اعتراض
سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی سے اس کیس سے الگ ہونے کی درخواست کی جبکہ سپریم کورٹ کا فل بنچ بنانے کی تجویز بھی سامنے آئی۔
جمعے کو سماعت کا آغاز آدھ گھنٹے کی تاخیر سے ساڑھے گیارہ بجے کے بعد ہوا۔ اور بارہ بجے نو رکنی عدالتی بینچ اُٹھ کر چلا گیا۔
سماعت کے دوران زیادہ تر وقت تین وکلا روسٹرم پر کھڑے رہے جن میں پیپلز پارٹی کے فاروق ایچ نائیک، اُن کے دائیں طرف جمعیت علمائے اسلام کے کامران مرتضیٰ جبکہ بائیں مسلم لیگ ن کے منصور اعوان تھے۔
تینوں وکلا نے دو ججز پر اعتراض کا مشترکہ بیان اپنے ہاتھوں میں تھام رکھا تھا کو فاروق ایچ نائیک نے پڑھ کر سنایا۔
فاروق ایچ نائیک نے ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کا مشترکہ بیان پڑھتے ہوئے دو ججز، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی، پر اعتراض کیا اور کہا کہ دونوں ججز اپنی رائے کا سی پی او لاہور غلام محمد ڈوگر کیس میں پہلے ہی کر چکے ہیں، اس لیے ان کو بنچ سے الگ ہو جانا چاہیے۔
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ دونوں ججز سے کوئی ذاتی عناد نہیں تاہم جسٹس جمال مندوخیل کے نوٹ کے بعد جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی اپنے آپ کو بینچ سے الگ کر دیں۔
فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے تشکیل کا معاملہ ہے، دیکھنا ہے کہ بینچ کی تشکیل کیسے ہوئی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ کیوں نہ معاملہ فل کورٹ میں سنا جائے۔ فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ میرا بھی یہی خیال ہے کہ معاملہ فل کورٹ میں سنا جائے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ سیاسی معاملات کو پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی جماعتوں سے کہیں کہ یہ معاملہ عدالت کیوں سنے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ فاروق نائیک نے جو حکم پڑھا ہے وہ 16 فروری کا ہے جبکہ ازخود نوٹس 22 فروری کو لیا گیا اور اسی دوران بہت سنگین معاملات سامنے آئے جن میں صدر کی جانب سے تاریخ کا اعلان اور سپیکرز کی جانب سے درخواست کا آنا شامل ہیں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ازخود نوٹس لینا چیف جسٹس کا دائرہ اختیار ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 184 تین کے ساتھ اسپیکرز کی درخواستیں بھی آج سماعت کیلئے مقرر ہیں اور عدالت سپیکرز کی درخواستوں میں اٹھائے گئے قانونی سوالات بھی دیکھ رہی ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’محسوس ہوا کہ آئین خود اس عدالت کا دروازہ کھٹکٹا رہا ہے۔‘ کیس کی سماعت سوموار تک ملتوی کر دی گئی۔

