فوج ہے تو پاکستان ہے، فواد چوہدری کا سافٹ ویئر بھی اپڈیٹ
پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر نائب صدر فواد چودھری نے کہا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے ترجمان کی حیثیت سے سمجھتے ہیں کہ 9 مئی کے واقعات شرم ناک ہیں۔
منگل کو رہائی کے بعد رات گئے انہوں نے کہا کہ ’میرا تعلق جہلم سے ہے جو شہدا اورغازیوں کی سرزمین ہے، ہمارا تو کوئی قبرستان ہی نہیں ہے جہاں شہید اور غازی دفن نہ ہوں۔‘
’ہمارا یہ رشتہ ہر رشتے سے زیادہ مقدم ہے، 9 مئی کو جو واقعات پیش آئے اس پر ہر پاکستانی رنجیدہ ہے اور یہ واقعات قابل شرم ہیں۔‘
9 مئی کے واقعات کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان تحریک انصاف کے کسی رہنما نے باضابطہ طور پر ان کی مذمت کی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’عمران خان نے بھی 9 مئی کے واقعات کی مذمت کی ہے۔‘
پی ٹی آئی کے سینیئر نائب صدر کا کہنا تھا کہ ’پاک فوج ہے تو پاکستان ہے اور پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اسی نقطہ نظر کو سامنے رکھ کر ہمیں پالیسیاں بنانی چاہییں۔‘
انہوں نے 9 مئی کے واقعات کی شفاف تحقیقات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ان واقعات میں جو بھی ملوث ہے چاہے وہ پی ٹی آئی سے ہو یا نہ ہو اسے سزا ملنی چاہیے۔‘
ایک سوال پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’مجھے اگر گرفتار کیا جاتا ہے تو میں گرفتاری دینے کے لیے تیار ہوں۔‘
اس سے قبل میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیئر نائب صدر نے کہا تھا کہ ’ملک کا نقصان ہو رہا ہے بہتر ہے معاملہ صلح کی طرف جائے۔‘
جب اُن سے پوچھا گیا کہ ’کیا 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف آرمی ایکٹ، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے تو فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’آٹھ سے دس ہزار افراد کے خلاف مقدمات کیسے چلائیں گے؟‘
قبل ازیں منگل کو ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے فواد چوہدری کی دو دن کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو اُن کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔
فواد چودھری کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیے کہ ’ایڈووکیٹ جنرل سے مقدمات کی تفصیل کا پوچھا تھا۔‘
’ایڈووکیٹ جنرل نے فواد چودھری کے خلاف دو مقدمات کا بتایا تھا۔ تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔‘
عدالت نے پولیس کو فواد چودھری کی دو دن کے لیے گرفتاری سے روکتے ہوئے حفاظتی ضمانت منظور کر لی تھی۔

