پاکستان

سمندری طوفان، پاکستان میں 80 ہزار افراد خطرے کی زد میں

جون 13, 2023

سمندری طوفان، پاکستان میں 80 ہزار افراد خطرے کی زد میں

پاکستان کی فوج اور سول حکام جنوبی صوبے سندھ کے ساحلی علاقوں کے رہائشی 80,000 لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر رہے ہیں جبکہ ہمسایہ ملک انڈیا میں ہزاروں افراد نے طوفان بائپرجوئے کی آمد سے پہلے پناہ کی تلاش میں ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان کے رواں ہفتے کے آخر میں گنجان آباد ساحلی علاقے سے ٹکرانے کی پیش گوئی کی ہے۔

یہ طوفان ممکنہ طور پر 2021 کے بعد سے مغربی انڈیا اور پاکستان کو ٹکرانے والا سب سے طاقتور ہے، اور یہ تباہ کن سیلاب کے بعد آ رہا ہے جس نے گزشتہ سال پاکستان بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی تھی، اور 1,739 افراد ہلاک اور 30 ​​بلین ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

انڈیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان کے ساتھ 180 کلومیٹر فی گھنٹہ (111 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے مسلسل ہوائیں چل رہی ہیں۔

طوفان کے جمعرات کو ریاست گجرات کے کچھ ضلع میں جاکھاؤ بندرگاہ کے قریب ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے۔

پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا کہ طوفان منگل کی صبح صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی سے 470 کلومیٹر (292 میل) جنوب میں تھا۔

حکومت سندھ کی جانب سے ساحلی پٹی پر آباد افراد کی منتقلی کے عمل کو تیز کردیا ہے۔ سندھ کے علاقے سجاول سے تیزی سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق تقریبا 10 ہزار سے زائد خاندان ہیں جنہیں فوری طور پرمنتقل کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں انتظامیہ کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ لوگ اپنے علاقے چھوڑنے سے انکار کررہے ہیں۔

سائیکلون ’بائپر جوائے‘ سے سندھ کی ساحلی آبادیوں کو نقصان پہنچنے کے خدشے کے پیش نظر پیر کی شام ہی سے شہریوں کا انخلاء شروع کر دیا گیا تھا۔

منگل کو چیئرمین این ڈی ایم اے کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ’کراچی، حیدرآباد، سانگھڑ، ٹنڈوالہ یار میں بارشوں کا امکان ہے۔ کیٹی بندر سے لوگوں کا انخلا مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ ماہی گیروں کو بار بار وارننگز دی گئی ہیں۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے