اسحاق ڈار نے جھوٹ بولا؟ پیٹرول و ڈیزل پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز
پاکستان کی وزارت خزانہ نے تسلیم کیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر ٹیکس میں 10 روپے اضافہ کر کے 50 سے بڑھا کر 60 کیا جا رہا ہے۔
وزارت خزانہ کی جوائنٹ سیکریٹری برائے بجٹ نے بتایا کہ تجویز کیے گئے اس اضافے کا اطلاق تمام پیٹرولیم مصنوعات پر ہو گا۔
اس سے قبل وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ حکومت بجٹ میں پیٹرولیم لیوی میں کوئی اضافہ نہیں کرے گی اور یہ 50 روپے فی لیٹر ہی رہے گی۔
وزارت خزانہ کی جوائنٹ سیکرٹری بجٹ نورین بشیر نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اسحاق ڈار سے مختلف مؤقف اپنایا۔
انہوں نے کہا کہ ایک بار جب حد کو موجودہ 50 روپے سے بڑھانے کی تجویز دی گئی تو حکومت ریٹ 60 روپے فی لیٹر تک بڑھا سکتی ہے۔
گزشتہ ہفتے ایکسپریس ٹریبیون سے منسلک معروف صحافی شہباز رانا نے خبر دی تھی کہ حکومت مالی سال 2023-24 کے دوران لگ بھگ 870 ارب روپے جمع کرنے کے لیے اضافی 10 روپے لیوی کے لیے ایک ترمیم تجویز کرے گی۔
تاہم وزیر خزانہ اسحاق ڈار بار بار کہہ چکے ہیں کہ حکومت لیوی کو 60 روپے تک بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔
حکومت کے ریٹ نہ بڑھانے کی صورت میں 870 ارب روپے اکٹھا کرنے کا ہدف غیر حقیقی ہو جائے گا۔
پیٹرولیم لیوی آرڈیننس 1961 کے تحت حکومت ڈیزل اور پیٹرول پر زیادہ سے زیادہ 50 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کر سکتی ہے۔ اور یہ حد پہلے ہی مکمل کر دی گئی ہے۔
اب اس نے فنانس بل 2023 کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات آرڈیننس 1961 کے سیکشن 7 میں ترمیم کی تجویز پیش کی ہے۔
اس ترمیم کا مقصد پارلیمنٹ سے لیوی میں اضافے کا اختیار لے کر وفاقی کابینہ کو دینا ہے۔

