فوجی عدالت سے سزا یافتہ ریٹائرڈ میجر جنرل کے بیٹے حسن عسکری رہا
ملٹری کورٹ سے پانچ برس قید کی سزا پانے والے پاکستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ میجر جنرل کے بیٹے حسن عسکری اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو ملازمت میں توسیع پر تنقیدی خط لکھنے اور اسے دیگر فوجی جرنیلوں کو بھی بھیجنے کے معاملے میں حسن عسکری کو 2021 میں پانچ برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔
عسکری ذرائع کے مطابق ملزم حسن عسکری کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی گوجرانوالہ چھاؤنی میں کی گئی تھی۔
انھیں یہ سزا فوجی افسران کو بغاوت پر اکسانے کے جرم پر دی گئی۔
سزا سنائے جانے کے بعد مجرم حسن عسکری کو ساہیوال میں واقع ہائی سکیورٹی جیل منتقل کیا گیا تھا۔
فوجی عدالت سے انھیں یہ سزا جولائی 2021 میں سنائی گئی تھی لیکن اس بارے میں تفصیلات حسن عسکری کے والد کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ میں اپنے بیٹے کی ساہیوال جیل سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں منتقلی کی درخواست میں سامنے آئی تھیں۔
حسن عسکری کو سنہ 2020 میں حراست میں لیا گیا تھا۔
پیشے کے لحاظ سے کمپیوٹر انجینیئر حسن عسکری پر الزام تھا کہ انھوں نے ستمبر 2020 میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو خط تحریر کیا تھا جس میں مبینہ طور پر اُن کی مدت ملازمت میں توسیع ملنے اور فوج کی پالیسوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں مستعفی ہونے کو کہا تھا۔
اس خط کی کاپیاں فوج میں حاضر سروس ٹو اور تھری سٹار جنرلز کو بھی بھیجی گئی تھیں۔
حسن عسکری کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 131 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جو فوج کے کسی بھی افسر یا اہلکار کو بغاوت پر اُکسانے کے زمرے میں آتا ہے۔
اس حوالے سے درج ہونے والی ایف آئی آر میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ ملزم حسن عسکری نے اپنے خطوط میں فوج کی اعلیٰ قیادت کے خلاف غیر قانونی ریمارکس بھی دیے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کا تعلق ملک دشمن عناصر سے ہے جو پاکستانی فوج میں انارکی پھیلانا چاہتے ہیں۔

