لاہور کی عدالت میں فائرنگ، خاتون سمیت دو افراد قتل
لاہور کی مقامی عدالت میں مخالفین نے فائرنگ کر کے پیشی پر آئی خاتون سمیت دو افراد کو قتل کر دیا۔
ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق ایدھی رضاکاروں نے ایمبولینس کے ذریعے مقتولین کی لاشیں ہسپتال منتقل کیں۔
پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود رہی اور فرانزک ٹیم نے موقع سے شواہد اکھٹے کیے۔
سیشن کورٹ میں مخالفین کی فائرنگ سے خاتون سمیت دو افراد کے قتل کا آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او سے رپورٹ طلب کی ہے۔
موقع پر موجود اہلکاروں نے فائرنگ کرنے والے دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا ہے۔
سیشن کورٹ میں فائرنگ سے مارے جانے والے افراد ایڈیشنل سیشن جج عبدالغفور کی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔
مارے جانے والے محمد امین اور صغراں بی بی قتل کیس میں ملوث تھے۔ دونوں کے خلاف محمد سلیم نے قتل کا استغاثہ دائر کر رکھا ہے۔
دونوں پر چوہنگ میں وکیل امانت، ان کی اہلیہ اور بچی کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ پولیس نے تفتیش میں دونوں کو بے گناہ قرار دیا تھا۔
فائرنگ کرنے والے ایک گرفتار ملزم نے تھانہ اسلام پورہ میں بتایا کہ اُن کی ذاتی دشمنی تھی اور مارے جانے والوں نے تین بندے قتل کیے تھے۔
ملزم نے بتایا کہ یہ ظالم تھے ان کو مار دیا ہے، لڑائی کی وجہ دولت کا لالچ تھا۔

