عدت میں نکاح کا مقدمہ قابلِ سماعت، عمران خان اور بشریٰ مانیکا کو نوٹس
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدت میں نکاح کی درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیا ہے۔
منگل کو عدالت نے سیشن جج کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر حکم جاری کرتے ہوئے مقدمے کی نئی تاریخ مقرر کی اور فریقوں کو نوٹس جاری کیے۔
عمران خان اور بشری مانیکا کو 20 جولائی کو عدالت میں پیش ہونے کا نوٹس بھیجا گیا ہے.
سیشن عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف عدت کے دوران نکاح کے الزام کے کیس میں سول جج کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔
عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہےکہ درخواست گزار کی اپیل منظور کرتے ہوئے سول جج کا 13 مئی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے اور معاملہ جوڈیشل مجسٹریٹ بنی گالا کو واپس بھجوایا جاتا ہے۔
فیصلے کہا گیا ہےکہ درخواست گزار کے مطابق دائرہ اختیار اسلام آباد کی عدالت کا بنتا ہے، درخواست گزار کے مطابق سول جج نے فیصلہ دیتے ہوئے قانونی نکات کو مدنظر نہیں رکھا، چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف سول جج کی عدالت میں پرائیویٹ شکایت دائر ہوئی، درخواست گزار محمد حنیف نے سول جج کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔
عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ نکاح کی تقریب لاہور میں ہونے کے باعث سول جج نے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دی، سول جج کے فیصلے کے مطابق دائرہ اختیار اسلام آباد کی عدالت کا نہیں بنتا، درخواست گزار کے مطابق نکاح کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی بنی گالا میں رہائش پذیر رہے، درخواست گزار کے مطابق جہاں واقعہ ہوا یا اس کے اثرات آئے، دونوں جگہوں پر کیس قابل قبول ہے۔

