پاکستان

میری ماہواری عدلیہ کی مرضی؟ عدت میں نکاح فیصلے پر احتجاج

فروری 6, 2024

میری ماہواری عدلیہ کی مرضی؟ عدت میں نکاح فیصلے پر احتجاج

اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے سامنے عورت مارچ کے شرکاء نے عدت میں نکاح کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ 

منگل کی سہ پہر عورت مارچ کے شرکا نے کہا کہ اس اجتماع کا مقصد حالیہ عدت میں نکاح کیس کے فیصلے پر اپنااحتجاج ریکارڈ کروانا ہے۔

مارچ میں خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

مظاہرین نے کہا کہ فیملی لاز میں صنفی امتیازی سلوک کا خاتمہ ہونا چاہیے، عدت میں نکاح کیس کے فیصلے کا اطلاق صرف بشریٰ بی بی نہیں بلکہ تمام خواتین پر ہونے جا رہا ہے۔.

مظاہرین نے کہا کہ عورت مارچ کا پلیٹ فارم مختلف جگہوں پر عورت کو دبانے کے خلاف آواز اٹھانے آیا ہے، ہماری عدالتوں میں سول لاز کو ذیادہ استعمال نہیں کیا جاتا۔

مظاہرین سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ اعلی عدالتوں سے مطالبہ ہے عدت میں نکاح کیس کے فیصلے کو واپس کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہیں ہوتا تو عورتوں کو مزید دبائے جانے کے مترادف ہو گا۔

مظاہرین کے مطابق عدت کا فیصلہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، اس فیصلے کا اثر پاکستان کی 49 فیصد خواتین پر ہے۔

مظاہرین نے کہا کہ 27 سال عورتوں کو اپنے قوانین منوانے میں لگ گئے۔ پاکستان کی عدالتیں اس فیصلے کے بعد ایک نیا پنڈورا باکس کھولنے جا رہی ہیں۔

مظاہرین کے مطابق پاکستان میں پہلے سے عورتوں کو قوانینِ کی آڑ میں دبایا جاتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم اس مہم کو اب سوشل میڈیا کے ذریعے بھی پھیلائیں گے۔ عورت مارچ کی کسی جماعت سے وابستگی نہیں ہے.

شرکا نے کہا کہ عدت میں نکاح کے کیس کا فیصلہ عورتوں کے حقوق پر حملہ ہے، عدت نکاح کیس کا فیصلہ اسلاموفوبیا کو مزید ہوا دے گا۔

احتجاج کرنے والی مقررین نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ عورت کی خودمختاری پر حملہ ہے۔ 

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے