مقامی پوڈ کاسٹر ریحان طارق 6 دن کے جسمانی ریمانڈ پر تفتیشی ایجنسی کے حوالے
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں لاہور کی عدالت نے مقامی پوڈ کاسٹر ریحان طارق کو 6 دن کے جسمانی ریمانڈ پر تفتیش کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے کرنے کا آرڈر جاری کیا ہے۔
پوڈ کاسٹر ریحان طارق نے عدالت میں پیش کیے جانے کے وقت پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے جبکہ اس موقع پر اُن کے کچھ ساتھیوںنے ریحان طارق کے حق میں بھی نعرے بازی کی-
مقامی پوڈ کاسٹر کو بدھ کی صبح لندن سے پاکستان واپسی پر این سی سی آئی اے نے گرفتار کیا تھا تاہم عدالت پیشی کے وقت اُن کو ہتھکڑی نہیںلگائی گئی تھی۔
ریحان طارق کے خلاف سائبر کرائم یعنی پیکا قانون کی دفعہ 11 کے ساتھ ضابطہ فوجداری کی دفعات 153اے، 295-A یعنی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور 298 یعنی جان بوجھ کر مذہبی جذبات مجروح کرنے،کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پوڈ کاسٹر پر مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام اس وقت عائد کیا گیا جب انھوں نے شیعہ سکالر جواد نقوی کے ساتھ ایک ایک انٹرویو میںاُن سے تاریخ اسلام کی شخصیت سے متعلق سوال کیے۔
مقدمے کے متن کے مطابق ریحان طارق نے ایک مذہبی سکالر کے ساتھ انٹرویو کے دوران مبینہ طور پر ’ایسے سوالات اٹھائے جو انتہائی حساس، متنازع اور رقہ وارانہ نوعیت کے معاملات سے متعلق تھے۔‘
ریحان طارق اس پوڈ کاسٹ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان میں عوام سے معذرت کر چکے ہیں۔
ایف آئی آرکے مطابق ’سوالات کی نوعیت، ان کا سیاق و سباق اور ان کی پیشکش مختلف فرقوں اور مکاتبِ فکر کے پیروکاروں کے درمیان بحث اور تنازع پیدا کر سکتی تھی۔‘
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ’ابتدائی تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ مواد دانستہ طور پر سوشل میڈیا فیس بک پر شائع کیا گیا۔ یہ مواد اشتعال انگیز نوعیت کا محسوس ہوا اور اس میں ایسا کچھ ہے کہ جو عوامی بے چینی کو ہوا دینے، فرقہ وارانہ نفرت کو فروغ دینے اور سماجی نظم و ضبط کو کمزور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘
عدالت میں پیشی کے موقع پر ریحان طارق نے کہا کہ اُن کو عدالت میں اس طرح پیش کیا گیا ہے جیسے کسی انتہائی مطلوب ملزم کو پیش کیا جاتا ہے۔ ’مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ کیا الزام عائد کیا گیا ہے۔‘

