آبنائے ہرمز میں ’نئے ایرانی انتظام‘ کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں: تہران
ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہاز گزارنے کے لیے اُس کے نئے انتظامی نظام کے تحت ہی ممکن ہے، اور یہ کہ اس کے سوا کوئی راستہ موجود نہیں-
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر جنگ بندی معاہدے کی متعدد خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں سے ایک ’آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے کی گئی نئی انتظامی تبدیلیوں کی خلاف ورزی‘ بھی ہے۔
اس بیان کے کچھ دیر بعد ایک اور سینیئر ایرانی رکنِ پارلیمان ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز میں نئے ایرانی نظام کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی متبادل نہیں۔‘
خلیج فارس کی اس اہم آبی گزرگاہ کی سلامتی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کے سب سے پیچیدہ اور متنازع معاملات میں سے ایک رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ آبنائے ہرمز تک رسائی کے قواعد کیا ہوں اور اس پر کس حد تک اختیار کس فریق کو حاصل ہو۔
17 جون کو طے پانے والی امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران نے 60 روز تک تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلا معاوضہ آمدورفت کے لیے اپنی ’بہترین کوششیں‘ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
تاہم بعد ازاں ایران نے مطالبہ کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز پیشگی طور پر ایرانی حکام کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی کریں۔
ایران نے یہ انتباہ بھی جاری کیا کہ اقوامِ متحدہ کی بحری تنظیم انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کی جانب سے مقرر کردہ راستے کے ذریعے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش ’ناقابلِ قبول اور انتہائی خطرناک‘ ہوگی۔