بوئنگ کمپنی کی حادثات میں مرنے والوں کے خاندان کو کروڑوں ڈالر کی ادائیگی
دُنیا کی بڑی امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے ایک کینیڈین شہری کے ساتھ عدالت کے باہر سمجھوتہ کر لیا ہے۔
کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے رہائشی پال نجورج کے ساتھ بوئنگ کے تصفیے کی شرائط جاری نہیں کی گئیں۔
پاک نجورج کے خاندان کی مارچ 2019 میں ایتھوپیا کی ایئر لائنز کے بوئنگ 737 MAX کے حادثے میں موت ہو گئی تھی۔
حادثے میں 41 سالہ شخص کی بیوی کیرولین اور تین چھوٹے بچوں چھ سالہ ریان، 6 سالہ کیلی اور نو ماہ کی روبی کی موت ہو گئی تھی۔
ان کی ساس بھی کے ساتھ سفر کر رہی تھیں اور حادثے میں ان کی بھی موت ہو گئی۔
اس مقدمے کی سماعت پیر کو شکاگو کی یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ میں شروع ہونے والی تھی اور یہ امریکی طیارہ ساز کمپنی کے خلاف سنہ 2018 اور 2019 میں دو مہلک 737 MAX حادثے کے باعث پہلا باقاعدہ مقدمہ ہوتا۔
ان حادثات میں کُل 346 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بوئنگ کمپنی نے اپریل میں ایک مقدمے کی سماعت کو بھی اُس وقت ٹال دیا تھا جب اس نے ایتھوپیا ایئر لائنز کے حادثے میں دو دیگر متاثرین کے اہلخانہ کے ساتھ بات چیت کے بعد سمجھوتہ کیا۔
طیارہ ساز نے تازہ ترین تصفیے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
دونوں حادثات کی وجہ سے کمپنی کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے جیٹ کو 20 ماہ کے لیے گراؤنڈ کر دیا گیا تھا اور بوئنگ کو 20 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
ایک اور مقدمے میں جو 3 نومبر کو شروع ہونے والا ہے، نجورج کے اٹارنی رابرٹ کلفورڈ مزید چھ متاثرین کے خاندانوں کی نمائندگی کریں گے۔
کمپنی کے مطابق بوئنگ نے دو حادثات سے متعلق 90 فیصد سے زیادہ دیوانی مقدمات کا اربوں ڈالر کے معاوضے کی ادائیگیوں کے ذریعے تصفیہ کیا ہے۔

