شوبز کالم

ہندی فلم "دھرندر”، لیاری کو اپنی کہانی خود لکھنی چاہیے

دسمبر 10, 2025

ہندی فلم "دھرندر”، لیاری کو اپنی کہانی خود لکھنی چاہیے

ذوالفقار علی ذلفی

میری یادداشت میں لیاری کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ رحمان بلوچ کا تھا ـ میں نے اس سے بڑا جنازہ نہ اس سے پہلے دیکھا اور نہ ہی اس کے بعد ـ ایک غلط العام مقولہ ہے "جنازے کی لمبائی انسان کی قامت طے کرتی ہے” ـ گر ایسا ہے تو کیا رحمان بلوچ کا قد پروفیسر صبا دشتیاری سے بلند تھا؟ ـ یقیناً نہیں ـ پھر ایسا کیوں ہوا ہزاروں افراد نے ایک پر ہجوم جلوس کی شکل میں رحمان کو الوداع کہا جب کہ اپنی پوری زندگی بلوچ زبان و ادب کی خدمت میں گزارنے والے اور بلوچ قومی مفادات پر اپنی جاں نچھاور کرنے والے عظیم استاد کا جنازہ چند سو افراد پر مشتمل تھا؟ ـ

اس کو سمجھنے کے لئے آپ کو کراچی کی سیاسی و سماجی ساخت کو سمجھنا ہوگا ـ میرا اصرار ہے کراچی کو تب تک نہیں سمجھا جاسکتا جب تک آپ شہر کی ثقافت پر حاوی لیاری کو نہیں سمجھیں گے ـ لیاری صرف چند ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور تنگ و تاریک گلیوں پر مشتمل کوئی خطہ نہیں بلکہ ایک زندہ کردار ہے ـ

میں یہاں لیاری پر کوئی طویل نظریاتی بحث نہیں کرنا چاہتا ـ نہ ہی رحمان بلوچ جسے کراچی کی غیر مقامی پولیس اور متعصب میڈیا نے "ڈکیت” کا عجیب و غریب نام دیا پر کوئی مقالہ لکھنے کا خواہش مند ہوں ـ لیاری اس وقت روایتی اور سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے ـ وی لاگ بن رہے، مضامین لکھے جا رہے ، میمز بن رہے ـ ہم جیسے لیاری والے بس خاموشی سے "تماشائے اہلِ کرم” دیکھ رہے ہیں ـ ان سب میں ایک چیز مشترک ہے "لیاری گینگ وار” کی گردان ـ صرف بی بی سی سے وابستہ سحر بلوچ نے اپنی ویڈیو میں لیاری کی جگہ "کراچی میں گینگ وار” کی اصطلاح استعمال کی، جو درست اور بامعنی ہے ـ

سحر بلوچ غالباً اس لئے درست اصطلاح استعمال کر رہی ہیں کہ ان کا اپنا آبائی تعلق لیاری سے ہے ـ وہ جانتی ہیں لیاری گینگ وار کی اصطلاح نے کس طرح لیاری کی سیاسی و سماجی ثقافت کو مسخ کرکے اس میں بسے لاکھوں محنت کشوں کو مجرم بنا کر پیش کیا ـ

پروین بلوچ؛ جنہیں میں حقیقی لیاری سمجھتا ہوں، انہوں نے بی بی سی کی ایک رپورٹ میں ہندی فلم "دھرندر” کے پسِ منظر میں بڑی پتے کی بات کہی "لیاری ان سب سے آگے نکل چکا ہے” ـ آج کا لیاری کیفی خلیل جیسے جوانوں سے اپنی پہچان کرانا چاہتا ہے ـ لیاری کے متعلق جو اول فول بکا جا رہا ہے وہ ان سب سے بے نیاز اپنی ڈگر پر چلا جا رہا ہے ـ مگر پھر بھی ……

پھر بھی لیاری کو اپنی کہانی خود لکھنی چاہیے ـ اگر لیاری نے اپنی کہانی خود نہ لکھی تو کل پھر کوئی اسماعیل تارا "ففٹی ففٹی” پر بیٹھ کر ہماری مسخ شدہ کہانی لکھ کر داد بٹورے گا ـ

لیاری کو اپنی کہانی لکھنی چاہیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے