لندن میں پی ٹی آئی کے شہزاد اکبر نے خود پر حملے کے بارے میں کیا بتایا؟
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب رہنے والے مرزا شہزاد اکبر پر برطانیہ میں نامعلوم شخص نے حملہ کیا ہے۔
شہزاد اکبر نے خود پر ہونے والے حملے کے بارے میں ایکس پر لکھا کہ:
بدھ کی صبح تقریباً 8:08 بجے، مجھ پر میرے گھر میں ایک نامعلوم حملہ آور نے حملہ کیا جو تعمیراتی کام یا کچرا جمع کرنے والے کے لباس میں تھا۔ فرد نے پوچھا کیا آپ شہزاد اکبر ہیں؟ اور فوراً مجھ پر حملہ آور ہو گیا۔ یہ واقعہ میرے گھر والوں کی موجودگی میں پیش آیا۔ ایمرجنسی سروس کو کال کیا گیا، اور مجھے ایک مقامی ہسپتال لے جایا گیا، جہاں مجھے طبی امداد دی گئی اور بعد میں ڈسچارج کر دیا گیا۔ مجھے چہرے پر چوٹیں آئی ہیں، ناک ٹوٹ گئی ہے۔ پولیس نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے اور مجھے اور میرے اہل خانہ کو یقین دلایا ہے کہ وہ اس ٹارگٹڈ حملے کی سرگرمی سے تحقیقات کر رہے ہیں اور مجرم اور اس کے پیچھے عناصر دونوں کو پکڑنے کے لیے کام کریں گے۔
حکام کے مشورے پر، میں اس مرحلے پر مزید تفصیلات بشمول سی سی ٹی وی فوٹیج یا تصاویر شیئر کرنے کے لیے آزاد نہیں ہوں، کیونکہ ایسا کرنے سے جاری تفتیش پر اثر پڑ سکتا ہے۔ مجھے قانون کی حکمرانی اور برطانوی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اپنے فرائض کی انجام دہی پر پورا بھروسہ ہے۔ میں برطانوی حکومت سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ انگلستان ہر ایک کے لیے ایک محفوظ جگہ رہے، بشمول میرے جیسے ناقدین کے لیے۔
میں ایک بات بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر میرے خیالات، سیاسی تبصرے، یا یہاں تک کہ میرا ’چہرہ‘ بھی کسی کو پسند نہیں ہے تو اس طرح کی بزدلانہ حرکتیں مجھے خاموش کرنے کی بجائے میرے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ تشدد مجھے خوفزدہ نہیں کرے گا اور نہ ہی مجھے بولنے سے روکے گا۔
میں پاکستان میں بدعنوانی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جمہوری اقدار کے خاتمے کو بے نقاب کرتا رہوں گا۔
شہزاد اکبر نے اس پیغام کے آخر میں لکھا ہے کہ اُن پر حملے کے بعد سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر جعلی اور اے آئی سے تخلیق کی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ ایسی ایک تصویر زاہد گشکوری نامی ایک صحافی نے ایکس اور فیس بُک پر شیئر کی تھی۔ زاہد گشکوری نے اپنی پروفائل پر خود کو انوسٹیگیٹو صحافی لکھا ہوا ہے۔

