صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات برآمدگی کے مقدمے میں نئی پیش رفت
پاکستانی حکومت کے وکیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو بتایا ہے کہ صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات و دہشت گردی کے کیس میں شواہد موجود ہیں۔
جمعے کو ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کے سامنے سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات کے ثبوت موجود ہیں اور اُن پر فردِ جُرم عائد کی جا سکتی ہے۔
عدالتی بینچ نے 14 ماہ گزرنے کے باوجود فرانزک رپورٹ نہ آنے پر حیرت کا اظہار کیا تاہم صحافی کے وکیل سے پوچھا کہ فردِ جُرم عائد کیوں نہیں ہو سکتی؟
وکیل قدیر جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ نارکوٹکس/منشیات کے کیس میں ویڈیو ہونا ضروری ہے اس کیس میں ویڈیو موجود نہیں۔
مطیع اللہ جان اپنے وکیل قدیر جنجوعہ اور احد کھوکھر کے ہمراہ پیش ہوئے۔
سرکاری وکیل نے بتایا کہ منشیات (آئس) کی برآمدگی موجود ہے، گواہ موجود ہیں اور چارج فریم ہو سکتا ہے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے پوچھا کہ صرف ویڈیو نہیں تو کیا فردِ جُرم عائد نہیں ہو سکتی؟
صحافی کے وکیل نے جواب دیا کہ منشیات کے کیسز میں ویڈیو نہ ہونے پر کیس نہیں چل سکتا اس حوالے سے اعلی عدلیہ کے فیصلے موجود ہیں۔
قدیر جنجوعہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ جن پر الزام ہے وہ صحافی ہیں اور 30 سال سے کورٹ رپورٹنگ کر رہے ہیں۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے حیرت سے پوچھا کہ تو کیا یہ آپ کا دفاع ہے؟
وکیل نے بتایا کہ وہ بطورِ صحافی 26 نومبر واقعے پر رپورٹنگ کرنے پمز گئے تھے، ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر کلاشنکوف چھیننے اور دیگر الزامات پر آپ کیا کہیں گے؟
جسٹس انعام امین منہاس نے سوال کیا کہ منشیات کے کیسز میں برآمدگی موجود ہو تو فردِ جُرم کیوں عائد نہیں کی جا سکتی؟
وکیل نے بتایا کہ 28 نومبر 2024 کو پولیس نے سیمپل بھیجا اور 14 ماہ میں فرانزک کا رزلٹ نہیں آیا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ ابھی تک فرانزک بھی نہیں ہوا؟
تفتیشی افسر نے بتایا کہ انہوں نے ریمائنڈر بھی بھیجا ہے لیکن ابھی تک فرانزک کی رپورٹ نہیں آئی۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ پولیس کو آئندہ سماعت تک وقت دے رہے ہیں کہ فرانزک لے کر آئیں، پھر دیکھتے ہیں۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 9 فروری تک ملتوی کر دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے سرکار کو مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ 9 فروری تک فرانزک رپورٹ سے متعلق عدالت کو آگاہ کریں۔
ٹرائل کورٹ کے فردِ جُرم عائد کرنے کے آرڈر کے خلاف مطیع اللہ جان کی اپیل پر جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے سماعت کی۔

