متفرق خبریں

بلوچستان میں حملہ آور مرنے کے لیے آئے تھے، انٹیلیجنس کیوں ناکام رہی: اپوزیشن لیڈر

فروری 2, 2026

بلوچستان میں حملہ آور مرنے کے لیے آئے تھے، انٹیلیجنس کیوں ناکام رہی: اپوزیشن لیڈر

پاکستان کی پارلیمان کے عوامی نمائندوں کے ایوان قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان پورے ملک کے لیے بلائنڈ سپاٹ ہے۔

پیر کی شام قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حالیہ حملوں کے بارے میں کہا کہ ’کیسے لوگ 15ضلعوں میں آ کر گھومتے رہے، کوئی شریف آدمی ہوتا تو حکومت چھوڑ دیتا، دو گھنٹوں تک کچھ بھی نہیں ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ آئے تھے وہ مرنے کے لیے آئے تھے، انٹیلیجنس ایجنسیوں کو کیوں پتہ نہیں چلا کہ کیا ہوا، اگر قصدا یہ سب کچھ ہوا تو بہت بڑی زیادتی ہوئی۔ کسی ٹی وی نے حملے کے بعد گانے بند نہیں کیے۔ کوئلے کے کانوں پر جتنا ٹیکس حکومت کو ملتا ہے اتنا بی ایل اے کو ملتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ آئیں بیٹھیں اور پاکستان کو بچائیں۔
’آپ بتائیں ملک میں کون کلاشنکوف لایا؟ ہم نے طالبان کو سپورٹ کیا اور تربیت دی۔ ضیاء الحق نے طالبان کو فریڈم فائٹر کہا، ہم نے طالبان کو سکھایا کہ چھاؤنیوں میں گھسا جاتا ہے۔ افغانستان کے ساتھ بات کریں دشمنیاں مستقل نہیں ہوتیں۔‘

بلوچستان میں کسی سردار کی مرضی کے خلاف آپ اس کے علاقے میں جلسہ نہیں کر سکتے، آپ نے ان راجواڑوں کو ہمارے ساتھ شامل کیا۔ ’سوئی کی گیس پورے پاکستان تک پہنچ گئی تھی لیکن وہاں کی عورتیں آگ جلا کر روٹیاں پکاتی رہیں۔‘

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ’ان حالات میں کون آپ کو چھوڑے گا، میں سپورٹ نہیں کرتا لیکن بلوچ کیا کرے گا۔ آپ اس ایوان کو مضبوط کریں کوئی پاگل نہیں جو لڑے۔ بلوچوں کو یقین دہانی کرائیں کہ آپ کے وسائل پر آپ کا حق ہے، پاکستان ایک بہترین گلدستہ بن جائے گا۔‘

محمود اچکزئی نے کہا کہ صرف پاکستان زندہ باد کے نعروں سے پاکستان نہیں بنے گا۔ پشتون بلوچستان کا پچاس فیصد ہیں۔
’ان باتوں پر ہمارے جھگڑے ہو چکے ہیں، خان آف قلات کو ان باتوں کا اندازہ تھا۔ گندمک معاہدے کے تحت خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کچھ علاقے افغانستان سے کاٹے گئے، سنہ 1970 میں بلوچستان میں بلوچوں اور پشتونوں کو اکٹھا کیا گیا۔‘

اپوزیشن لیڈر کے تقریر کے بعد قومی اسمبلی اجلاس میں سپیکر سردار ایاز صادق نے آرڈر کیا کہ ’جہاں جہاں سکیورٹی فورسز کے حوالے سے بات ہوئی وہ حذف ہوگی، ہمیں اپنی انٹیلیجنس ایجنسیز اور سیکیورٹی اداروں کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ ان کی کاوشوں کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کی جانیں بچیں۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے