پاکستان میں سالانہ ڈیڑھ لاکھ کاریں اور ایک لاکھ موٹرسائیکل بیچتے ہیں: سوزوکی موٹرز
پاکستان کی پارلیمنٹ کی کمیٹی کو پاک سوزوکی موٹرز کے حکام نے بریفنگ میں بتایا ہے کہ کمپنی ملک میں کاروں کی ضروریات کا 40 فیصد پورا کرتی ہے۔
منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کو کمپنی کے حکام نے بتایا کہ اُن کے پاس دو پلانٹس ہیں جن کا رقبہ 213 ایکڑ ہے۔
رکن قومی اسمبلی سید حفیظ الدین کی زیر صدارت اجلاس میں پاک سوزوکی موٹرز کے حکام نے بریفنگ دی کہ اُن کا ہیڈ آفس کراچی میں ہے۔ ’ہم سالانہ ایک لاکھ 50 ہزار کاریں اور ایک لاکھ 4 ہزار موٹر سائیکل تیار کر رہے ہیں۔‘
بریفنگ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاک سوزوکی ملکی 4 پہیوں والی گاڑیوں کی 40 فیصد ضروریات پوری کر رہی ہے۔
’ہم 57 ارب روپے مالیت کے مقامی پارٹس خرید رہے ہیں، پاک سوزوکی کی سالانہ سیل 300 ارب روپے کے قریب ہے۔‘
کمیٹی کے چیئرمین نے حکام سے پوچھا کہ ملک میں سوزوکی کمپنی کی گاڑیوں کے ہی زیادہ حادثات ہوتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟
کمپنی کے حکام نے جواب دیا کہ ’ہماری گاڑیوں کی دیگر گاڑیوں کی نسبت زیادہ فروخت ہے۔‘
کمیٹی کی رُکن کرن عمران ڈار نے سوال پوچھا کہ کیا آپ کی گاڑی کے بیگز کھلتے ہیں یا نہیں؟ اس پر کمپنی کے متعلقہ عہدیدار نے بتایا کہ ’ہماری گاڑیوں کا چھ ماہ تک جاپان میں ٹیسٹ ہوتا ہے تب اجازت ملتی ہے، ہم گاڑی کا ایک سیمپل بنا کر وہاں بھیجتے ہیں جس کی ٹیسٹنگ ہوتی ہے۔ کوالٹی سٹینڈرذ پر کوئی سمجھوتہ نہیں، ایئر بیگز باہر سے امپورٹ کرتے ہیں۔‘
کمیٹی کے چیئرمین نے کمپنی کے نمائندوں کو ہدایت کی کہ ’ہمیں گاڑیوں کے سٹینڈرڈز کے حوالے تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔‘

