متفرق خبریں

’مقتدر لوگ جو چاہیں کر سکتے ہیں‘، اسلام آباد میں ’یادگار‘ پر اے ایف پی کی رپورٹ

فروری 8, 2026

’مقتدر لوگ جو چاہیں کر سکتے ہیں‘، اسلام آباد میں ’یادگار‘ پر اے ایف پی کی رپورٹ

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد کبھی اپنی سرسبز اور خوشگوار فضا کے لیے جانا جاتا تھا لیکن اب انفراسٹرکچر اور فوجی یادگاروں کے لیے شہر بھر میں درختوں کی کٹائی نے یہاں بسنے والوں کے غصے اور قانونی چارہ جوئی کو جنم دیا ہے۔

1960 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا اسلام آباد کو ایک سرسبز شہر کے طور پر بسانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا جس میں وسیع راستے، پارکس اور درختوں سے بھرے رہائشی سیکٹر تھے۔

بہت سے رہائشیوں کو خدشہ ہے کہ سبز جگہوں کی جگہ کنکریٹ کی یادگاریں بنا کر شہر کی فضا کو خراب کیا جا رہا ہے۔
شہری محمد نوید نے رواں سال شہر میں سڑکوں اور انڈرپاسز کے منصوبوں کے لیے ’بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی‘ پر عدالت سے رجوع کیا۔ انہوں نے حکام پر الزام عائد کیا کہ ’بہت سے بڑے درخت‘ کاٹے گئے اور علاقے کو ’بنجر‘ چھوڑ دیا گیا۔

ورلڈ وائیڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) نے اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں اور خود رُو پودوں کی کٹائی کی وجہ سڑکوں کی تعمیر اور یادگاروں سمیت بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو قرار دیا۔
گلوبل فاریسٹ واچ کے مطابق سنہ 2001 سے سنہ 2024 کے درمیان اسلام آباد نے 14 ہیکٹر کے علاقے پر پھیلے درختوں کو کھو دیا، جو کہ 20 فٹ بال گراؤنڈ کے برابر رقبہ ہے۔ تاہم یہ اعداد و شمار موجود نہیں کہ اسی عرصے کے دوران کتنے علاقے میں درخت لگائے گئے۔

مقامی تاجر کامران عباسی 1980 کی دہائی سے اسلام آباد کے رہائشی ہیں، اُن کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’وہ ہر جگہ درخت کاٹ رہے ہیں۔‘
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ اب یہ شہر پہلے جیسا نہیں رہا۔ ’درخت زندگی ہیں، ایک پُل بنانے کے لیے ہزاروں کاٹے جاتے ہیں۔‘

سموگ اور پولن
اسلام آباد میں ہوا کا معیار بدستور خراب ہے۔
آلودگی ایک دیرینہ مسئلہ ہے، لیکن پودے گندی ہوا کو فلٹر کرکے، نقصان دہ گیسوں کو جذب کرکے اور شہروں کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے فارسٹ پروگرام کے ڈائریکٹر محمد ابراہیم نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’جنگلات طاقتور قدرتی فلٹر کے طور پر کام کرتے ہیں، ہوا اور پانی کو صاف کرتے ہیں، اور آلودگی کے مجموعی اثرات کو کم کرتے ہیں۔‘

گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ہوا کے معیار کے حساب سے کوئی اچھے دن نہیں تھے، دو دنوں کے علاوہ سبھی کو مانیٹرنگ تنظیم آئی کیو ایئر نے ’غیرصحت بخش‘ یا ’انتہائی غیرصحت بخش‘ قرار دیا تھا۔
اگرچہ کچھ درخت بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے منصوبوں کے لیے کاٹے جاتے ہیں، تاہم حکام موسمی پولن الرجی سے نمٹنے کے لیے بھی بہت سے درختوں کو کاٹنے کا جواز پیش کرتے ہیں جو خاص طور پر موسم بہار میں شدید ہوتی ہے۔
یہ مسئلہ زیادہ تر جنگلی شہتوت یا پیپر ملبری کے درختوں سے منسوب ہے جو شہر کو بناتے وقت بڑے پیمانے پر لگائے گئے تھے۔

اسلام آباد میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ایک اہلکار عبدالرزاق نے درختوں کے کاٹنے کے بارے میں بتایا کہ ’بنیادی وجہ پولن الرجی ہے۔‘
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’لوگ سینے میں انفیکشن، دمہ اور شدید الرجک ردعمل کا شکار ہوتے ہیں۔ میں بھی پولن الرجی کا شکار ہوتا ہوں۔‘

ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق حکومت 29 ہزار ایسے درختوں اور پودوں کو کاٹنے کا ارادہ رکھتی ہے جو موسمی الرجی کا باعث بنتے ہیں۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ پولن الرجی بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کا جواز پیش کرنے کا ایک بہانہ ہے، خاص طور پر فوجی یادگار اور سڑکوں کی توسیع کے منصوبوں کے لیے۔

اس کا حل درختوں کی اندھا دھند کٹائی میں نہیں بلکہ محتاط شہری منصوبہ بندی میں مضمر ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ الرجی کا باعث نہ بننے والے پودے لگانا اور دارالحکومت میں ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیات کے حوالے سے زیادہ شفافیت لانا ضروری ہے۔

شہر کے درخت کلہاڑی کی زد میں
حالیہ مہینوں میں بڑے بلڈوزروں نے گرین بیلٹس اور جنگل والے رقبے کو ہموار کرتے دیکھا گیا اور اس میں بڑی شاہراہوں کے قریب موجود درختوں سے بھرے قطعے بھی شامل ہیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف اور سرکاری حکام کے مطابق گزشتہ مئی میں پاکستان اور پڑوسی ملک انڈیا کے درمیان مسلح تصادم کی یادگاروں (معرکہ حق) کے لیے زمین کے ایک حصے کو مختص کیا گیا۔

ملٹری سے منسلک انفراسٹرکچر کے لیے بھی کچھ رقبے کو ہموار کیا گیا۔
ایک سرکاری ذریعے نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ فوج سے منسلک منصوبوں کے لیے درخت کاٹے جا رہے ہیں، لیکن ہم کچھ نہیں کر سکتے۔‘

متعلقہ سرکاری افسر نے کہا کہ’اقتدار میں موجود لوگ، فوج، جو چاہیں کر سکتے ہیں۔‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طاقتور فوج نے کئی دہائیوں تک مارشل لا کے ذریعے ملک پر حکومت کی ہے اور وہ ملک کی سیاست اور معیشت میں گہرا اثر رکھتی ہے۔

شہر کی ایکسپریس ہائی وے کے ساتھ ایک مجوزہ فوجی یادگار (معرکہ حق) کی جگہ پر ڈبلیو ڈبلیو ایف نے گزشتہ سال چھ ہیکٹر سے زیادہ اراضی کو ہموار کرنے کو ریکارڈ کیا، اس رقبے پر 2026 میں بھی کام جاری ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق اس یادگار کے علاقے میں کہیں بھی شجرکاری کی کوشش نہیں دیکھی گئی جس کا مطلب ہے کہ اس جگہ کو صاف کرنا ہے۔

فوج کی جانب سے اے ایف پی کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا گیا۔
بڑے پیمانے پر کٹائی کو روکنے کے لیے محمد نوید کی جانب سے دائر کی گئی درخواست تاحال زیرِسماعت ہے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ درختوں کو کاٹنے کے لیے کوئی ’عذر‘ پیش نہیں کیا جا سکتا۔
اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’اگر کوئی یادگار ضروری بھی ہے تو اسے کسی موجودہ پارک یا عوامی جگہ پر کیوں نہیں بنایا جاتا۔‘

محمد نوید کی درخواست کے جواب میں حکام نے کہا کہ سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی منظوری 1992 کے ضوابط کے تحت دی گئی تھی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے