پاکستان میں نیٹ بلنگ کی نئی سولر پالیسی کا نفاذ، حکومتی اتحادی بھی تنقید کرنے لگے
پاکستان میں حکومت کی سولر انرجی کا شمسی توانائی پیدا اور استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نئی پالیسی پہلے دن ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی۔
حکومت کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بھی اس کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
پیر کو حکومت کی ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا نے سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ (یونٹ کے بدلے یونٹ) کے نظام کو عملاً ختم کر کے نیا نظام نیٹ بلنگ نافذ کیا ہے۔
اس وقت پاکستان میں جن شہریوں اور چھوٹے کاروباروں نے شمسی توانائی کے یونٹس لگا رکھے ہیں وہ نیٹ میٹرنگ پر ہی رہیں گے مگر اُن کے موجودہ معاہدے (7 سال) کی مدت کو کم کر کے پانچ سال کر دیا گیا ہے۔
یہ مدت ختم ہونے تک محفوظ ہیں مگر اس کے بعد انہیں نئی پالیسی پر منتقل کر دیا جائے گا۔
سولر پر منتقل ہونے والے نئے صارفین دن میں پیدا کی گئی اضافی بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو تقریباً 11 روپے فی یونٹ فیں گے جبکہ رات کے وقت اُن کو وہی بجلی لگ بھگ 45 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدنا پڑے گی۔
نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد بظاہر صرف بیٹری بیک اپ رکھنے والے صارفین مشکل صورتحال سے دوچار نہیں ہوں گے۔
پالیسی پر نظر رکھنے والے منصور احمد قریشی کہتے ہیں کہ ایسے سولر صارفین جن کے پاس 48V یا 96V سسٹم کے ساتھ 10–15 kWh یا اس سے زیادہ بیٹری سٹوریج ہے، وہ دن کی سولر بجلی ذخیرہ کر کے رات کو استعمال کر سکتے ہیں اور گرڈ سے مہنگی بجلی لینے سے بڑی حد تک بچ سکتے ہیں۔
تاہم بغیر بیٹری یا کم وولٹیج یا کم کیپیسٹی بیٹری والے صارفین کو نقصان ہو گا کیونکہ وہ دن میں سستی بجلی بیچ کر رات کو مہنگی بجلی لینے پر مجبور ہوں گے۔
اُن کا کہنا ہے کہ سولر صارفین کے لیے بچاؤ کا راستہ یہ ہے کہ گرڈ پر انحصار کم کریں، دن کے وقت لوڈ چلائیں، مناسب وولٹیج اور زیادہ کیپیسٹی کی بیٹری استعمال کریں، اور سولر کو کمائی نہیں بلکہ بجلی بچانے کا ذریعہ بنائیں۔
مجموعی طور پر یہ پالیسی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے فائدہ مند، مگر عام صارف اور قابلِ تجدید توانائی کے مستقبل کے لیے تشویشناک ہے ۔
منصور احمد قریشی کے مطابق جن لوگوں کو بیٹری بیک اپ سے فائدہ ہوگا اُن کے لیے بھی یہ بہت بڑا اور مہنگا سسٹم ہے ۔ 20 kVA، 96V، 8 بڑی بیٹریاں، جن پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔
عام شہری کے لیے یہ ممکن ہی نہیں، جس نے نیٹ میٹرنگ اس لیے لگوائی تھی کہ یونٹ ایکسچینج ہو جائے، وہ نہ اتنی مہنگی بیٹریاں لگا سکا اور نہ لگا سکے گا۔
اب وہ دن میں سستی بجلی دے گا اور رات کو مہنگی لے گا — یعنی عام صارف کے لیے اس پالیسی میں فائدہ نہیں، نقصان ہی نقصان ہے۔
اصل میں نیٹ میٹرنگ ختم کر کے سولر کو امیروں تک محدود کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا تھا کہ سولر امیروں نے لگایا ہے اور اب اُن کے بجلی کے بل 200 یونٹس سے کم آتے ہیں جن کی وجہ سے وہ اُن صارفین میں شامل ہو گئے ہیں جن کو حکومت سبسڈی یا کم قیمت پر بجلی دیتی ہے۔
پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے نئی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے ملک کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

