عمران خان کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے حکمنامے کا اردو ترجمہ
یہ تین سول پٹیشن ہیں جو سنہ 2023 میں سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں۔
ان تینوں درخواستوں میں عمران خان درخواست گزار اور مدعا علیہان میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر و دیگر ہیں۔
درخواست گزار کی جانب سے ان مقدمات میں اُن کے وکلا لطیف کھوسہ، بیرسٹر گوہر علی خان اور سوزین جہاں ایڈووکیٹ ہیں۔
عدالتی حکم میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان کے اٹارنی جنرل سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ اُنہوں نے عدالت کی توجہ اُس تفصیلی رپورٹ کی جانب دلائی جس میں درخواست گزار یعنی عمران خان کے جیل کے حالات زندگی یا لیونگ کنڈیشنز کو شامل کیا گیا ہے۔
یہ رپورٹ ججز کے چیمبر میں بینچ کے ارکان کے غور و خوض کے لیے جمع کرائی گئی تھی۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وہی رپورٹ اب CMA نمبر 403 / 2026 کے ذریعے عدالت میں جمع کرائی گئی ہے۔
عدالتی آرڈر میں لکھا گیا کہ ججز نے اس رپورٹ کا جائزہ لیا، اگرچہ یہ تفصیلی ہے، لیکن اس مدت کی ہے جب درخواست گزار یعنی عمران خان ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں قید تھے، اور اس رپورٹ کا سال بھی سنہ 2023 ہے۔
مزید لکھا گیا کہ اس عدالت یعنی سپریم کورٹ سے دیے گئے حکم کو عدالتی آرڈر کے مطابق حتمی بنانے کے لیے یہ مناسب سمجھا جاتا ہے کہ "جیل میں درخواست گزار کے حالاتِ زندگی” کے بارے میں ایک رپورٹ سپرنٹنڈنٹ، سینٹرل جیل، راولپنڈی پیش کرے۔
دوم یہ کہ بیرسٹر سلمان صفدر، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، کو عدالت یعنی سپریم کورٹ اپنا امائکس یعنی دوست کے طور پر مقرر کرتی ہے کہ وہ ان مقدمات یعنی سول پٹیشنز نمبر 921، 922 اور 938 جو سنہ 2023 میں دائر کی گئی تھیں” سینٹرل جیل راولپنڈی میں درخواست گزار عمران خان سے ملاقات کر کے آج تحریری رپورٹ جمع کرائیں۔
اس سلسلے میں اٹارنی جنرل برائے پاکستان نے وعدہ کیا کہ بیرسٹر سلمان صفدر، وکیل سپریم کورٹ کو درخواست گزار سے ملنے اور اُن کے حالات زندگی کا معائنہ کرنے کے لیے مکمل رسائی فراہم کی جائے گی۔
رپورٹ چیمبر میں غور کے لیے پیش کی جائے گی۔
سپریم کورٹ کا بینچ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تھا۔

