بنگلہ دیش میں انتخابی نتائج، چند ایک پہلو یہ بھی ہیں! امتیاز احمد وریاہ کا تجزیہ
بین الاقوامی میڈیا میں کام کرنے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ان خبری ذرائع تک بھی رسائی ہوتی ہے ،جہاں عام قاری تو ایک طرف،عام صحافی کی بھی رسائی نہیں ہوتی اور وہ بالعموم معروف خبررساں اداروں ہی پر خبروں کے لیے انحصار کرتے ہیں اور دیگر ذرائع آن لائن دستیاب ہونے کے باوجود ان کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں۔
بنگلہ دیش ایسےکسی ملک میں انتخابی نتائج محض پولنگ پر منحصر نہیں ہوتے،اس میں بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کا کردار اورعالمی سیاسی رجحانات بھی بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اسے آپ عالمی اور علاقائی طاقتوں کی ریشہ دوانیاں اور پسند وناپسند کی کارفرمائی کہہ لیں۔ یہ اس وقت صرف امریکا بہادر تک محدود نہیں، بلکہ اس میں کئی بین الاقوامی اور علاقائی قوتوں کی معاشی اور سیاسی تزویراتی جمع بندی کا بھی کردار ہوتا ہے اور ان کے سراغرساں ادارے اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔وہ ان کے حصول کے لیے اپنے آلہ کار پیادو ں کو چلا رہے ہوتے ہیں۔اس تناظر میں دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ وہ ’ہدف‘ ملک میں انتخابات میں کیا سیاسی اتھل پتھل کررہے ہیں۔اپنے اپنے زیر اثر بلکہ’ زیر نگیں ‘ذرائع ابلاغ کو کس طرح استعمال کررہے ہیں ۔ پھر ان کی نظر میں بنگلہ دیش اور أفغانستان یا جارجیا کی اہمیت ایک ایسی نہیں ہوسکتی۔
سابق مشرقی پاکستان تو سرد جنگ کے دور میں دو عالمی طاقتوں امریکا اور سابق سوویت یونین کی ریشہ دوانیوں کی آماج گاہ رہا تھا۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد سے وہاں پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلسل آویز ش جاری ہے۔ وہاں کبھی بھارت نوازوں کا پلڑا بھاری ہوتا ہے توکبھی پاکستان نوازوں کا ۔اس مرتبہ فاتح رہنے والی دونوں بڑی جماعتیں بی این پی اور جماعت اسلامی پاکستان نواز ہیں اور یہ امر پاکستا ن کے لحاظ سے اطمینان بخش ہے جبکہ بھارت کے خطے میں بالادستی قائم کرنے کے جنون کے پیش نظر بنگلہ دیش ان دونوں ملکوں کے درمیان مسلسل محاذ آرائی کا میدان بنا رہے گا۔
بنگلہ دیش میں منعقدہ عام انتخابات کے نتائج کے تجزیے ایک اور پہلو بڑا اہم ہے۔ وہ عالمی ساہوکاروں کے ملکیتی دس بڑی میڈیا کمپنیوں اورخبررساں اداروں کی رپورٹنگ کا بغور جائزہ ہے۔اس میں تین چیزیں بہت اہم ہیں:
ایجنڈا سیٹنگ: کیاان ملکوں کا کوئی خاص ایجنڈا تھا؟اس کو کیسے بروئے کار لایا گیا؟
پرائمنگ : وہ کس خبر کو کیوں اور کیسے نمایاں کررہے تھے۔کس جماعت یا لیڈر کو ہیرو یا ولن بنا کر پیش کررہے تھے۔
فریمنگ:وہ میڈیا کے موا د(خبروں کا متن اور فوٹیج) کو کیسے فریم کررہے تھے، کون سے الفاظ ، اصطلاحیں ،تراکیب ،روزمرے اور محاورے استعمال کیے گئے۔ وغیرہ۔
جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بارہ بجے تک صورت حال واضح ہوچکی تھی اور موصولہ نتائج کے مطابق بنگلہ دیش قومی پارٹی اور جماعت اسلامی کے درمیان نشستوں کی تعداد میں کم وبیش نصف کا فرق آچکا تھا۔اسی پہلو کو راقم نے لطیف انداز میں یوں بیان کیا تھا کہ
شیخ کی رپورٹنگ پہ نہ جائیو صاحب
نتائج 90 ڈگری الٹ پڑرہے ہیں
لیکن جماعت اسلامی پاکستان کے وابستگان اس وقت تک بھی خوش امید تھے کہ کوئی جادوئی چھڑی جماعت اسلامی بنگلہ دیش کو انتخابات میں اتنی سادہ اکثریت دلا دے گی کہ وہ حکومت بنا سکے۔یہ امید ایسی غلط بھی نہیں تھی کیونکہ جماعت کے قائدین اور کارکنان نے گذشتہ پچاس سال کے دوران میں اور بالخصوص حسینہ واجد کے آخری دورحکومت میں جس طرح پامردی اور استقامت سے ظلم وجبر کا مقابلہ کیا،اس کی مصر کی الاخوان المسلمین کے علاوہ کہیں اور مثال نہیں ملتی۔جماعت کے پیروجواں پھانسی کے پھندوں پر جھول گئے مگر ان کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی،انھوں نے ہرقسم کے ریاستی جبروتشدد اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کے باوجود ملک سے راہِ فرار اختیار نہیں کی بلکہ عوام میں موجود رہے اور ہرظلم واستبداد کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا۔ان کی ان بے بیش بہا قربانیوں کے پیش نظر یہ توقع کی جارہی تھی کہ بنگالی عوام انھیں عام انتخابات میں پذیرائی بخشیں گے مگر اعلان کردہ انتخابی نتائج میں ایسا نہیں ہوسکا۔کیوں ؟ اس کے لیےایک تو خود بنگلہ دیش کے حالات کا گہرائی سے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے، متلون مزاج بنگالی مذہبی یا دین پسند ضرور ہیں مگر اکثر کسی فیصلہ کن موڑ پر ان کے سیاسی نصب العین کا فیصلہ ان کا سیکولر مزاج کرتا ہے، مذہبی نہیں۔
ایک اور اہم پہلو، اسلامی دنیا کی معاصر تاریخ کا مختصر جائزہ بھی انتخابی نتائج کو سمجھنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔گذشتہ دو عشروں کے دوران میں بالخصوص جن عرب اسلامی ملکوں میں عوامی تحریکیں برپا ہوئیں یا برپا کرائی گئیں، وہاں منعقدہ انتخابات کے نتائج کا جائزہ لیجیے۔وہاں آپ کو کم وبیش ایک ہی جیسےرجحانات نظر آئیں گے۔ وہاں منعقدہ انتخابات کے کیا نتائج رہے، اسلامی سیاسی جماعتوں کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ؟ اس کی ایک مختصر جھلک ملاحظہ ہو:
مصر میں بعد از ’بہاریہ تحریک‘ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعت الاخوان المسلمین کا پتا ہی صاف کردیا گیا۔اس کی تمام ادنیٰ واعلیٰ قیادت پابندِ سلاسل ٹھہری ۔ الاخوانی لمبی قید اور پھانسیوں کے سزاوار ٹھہرائے گئے۔ اردن میں اسی قدیم جماعت کی شاخ قصہ پارینہ ہوئی۔تُونس میں النہضہ اور راشد الغنوشی کو انتخابی کامیابی کے باوجود منظرعام سے ہٹا دیا گیا۔ الجزائر میں سخت پابندیوں کے بعد مذہبی سیاست جان کنی کے عالم میں ہے اور شام میں کہنے کو تو احمد الشرع مذہبی قائد ہیں بلکہ جہادی پس منظر کے حامل ہیں مگر وہ منتخب صدر نہیں۔ وہاں انتخابات ہوئے تو نتیجہ شاید مذکورہ ممالک سے کچھ زیادہ مختلف نہ ہو۔لیبیا اور سوڈان برسوں سے خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہیں۔ یمن علاقائی طاقتوں کی مسلح آویزش کے بعد عملاً دو حصوں میں بٹ چکا ہے۔قدرے پُرامن سمجھاجانے والا عراق امریکا کی فوجی مداخلت اور صدام حسین کی پھانسی کے بعد سے سیاسی طور پر عدم استحکام سے دوچار ہے۔
واضح رہے کہ سنجیدہ مبصرین بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے کم وبیش اسی نتیجے کی پیشین گوئی کررہے تھے، جو آیا ہے مگر کٹر نظریات کی حامل کسی سیاسی یا مذہبی سیاسی جماعت کے وابستگان کا معاملہ دوسرا ہوتا ہے۔ان کا جذبات کی رو میں بہ جانافطری ہوتا ہے۔ وہ میڈیا کی غوغا آرائی سے متاثر ہوکر انتخابات میں کامیابی سے متعلق بہت بلند توقعات وابستہ کرلیتے ہیں اور بالعموم برسرزمین حقائق کو تیاگ دیتے ہیں۔ووٹروں کے مزاج سے عدم شناسائی ہو تو کامیابی کے موافق جذبات کا پارہ بہت بلند ہوجاتا ہے لیکن توقع کے برعکس انتخابی نتائج برآمد ہونے کی صورت میں ان میں خیبت (فرسٹریشن ) پھیلتی ہے تو وہ دل پشوری کے لیے انتخابات میں دھاندلی اور نتائج تبدیل کرنے سمیت طرح طرح کی باتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔یہی کچھ اب ہم دیکھ رہے ہیں ۔روایتی اور سوشل میڈیا میں بھی اس کی جھلکیاں نظر آرہی ہیں۔

