متفرق خبریں

شاہراہیں بند کرنے سے مشکلات، شہری مر رہے ہیں: پشاور ہائیکورٹ ‏

فروری 17, 2026

شاہراہیں بند کرنے سے مشکلات، شہری مر رہے ہیں: پشاور ہائیکورٹ ‏

پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی احتجاج کے باعث سڑکوں کی بندش کے خلاف دائر رٹ درخواست پر سماعت کی گئی۔

سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرخ جمشید نے کی جہاں عدالت نے سڑکوں کی بندش پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

‏ درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ سڑکیں بند کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

‏ جسٹس اعجاز انور نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ سٹرکیں بند کرنے والے کتنے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل نے کہا کہ ‏وقت دیا جائے ،ڈیٹا مرتب کرنے میں وقت لگے گا، سماعت سے قبل ہی ہمیں ذمہ دار قرار دے دیا۔

ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کر رہے۔

‏ جسٹس اعجاز انور نے اُن کو مخاطب کر کے کہا کہ ابھی خود بتا چکے کہ عمران خان کے علاج معالجے کے معاملے پر روڈ بند کیے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری اور پولیس سربراہ عدالت میں پیش ہوئے اُن سے پوچھا گیا کہ کیا صورت حال ہے، سڑکیں کہاں، کہاں پر بند ہیں؟

جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ خیبر پختونخوا سے کوئی باہر نہیں جا سکتا، دہشت گردی بھی ہو رہی ہے، لوگوں کی نقل و حرکت نہیں ہو رہی۔
آئی جی خیبر پختونخوا نے بتایا کہ موٹر وے دونوں اطراف سے بند ہے، 14 مقامات پر سڑکیں بند تھیں، جن میں سے کچھ جگہوں پر کھلوائی گئی ہیں۔

جسٹس اعجاز انور نے پوچھا کہ روڈ بند کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے؟

آئی جی خیبر پختونخوا ذاوالفقار حمید نے بتایا کہ موٹر وے والے ہمیں مراسلہ لکھتے ہیں تو ہم اس پر کارروائی کرتے ہیں۔

جسٹس اعجاز انور نے چیف سیکرٹری سے پوچھا کہ آپ نے کیا ایکشن کیا ہے، جہاں آپ نے ایکش لینا ہوتا ہے تو تھری ایم پی او میں کارروائی کرتے ہیں، جہاں نہیں وہاں کچھ نہیں کرتے۔

جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ صوبے کے حالات دیکھیں، حکمران جماعت اپنے ہی لوگوں کو تگلیف دے رہی ہے، صوبے کے شہری اپنے ہی حکمرانوں کو گالیاں دے رہے ہیں۔

آئی جی نے استدعا کی کہ دو دن کا وقت دیا جائے سب کلئیر کر دیں گے۔

جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ نے سخت کاروائی کرنا ہو گی، کسی کو روڈ پر احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے، احتجاج آپ کا حق ہے، مگر لوگوں کو تکلیف نہیں دینی چاہئے۔

جسٹس اعجاز انور کا کہنا تھا کہ اگر احتجاج کرنا ہے تو ایسی جگہ کریں کہ کسی کو تکلیف نہ ہو، کسی صورت موٹر وے بند نہیں ہونا چاہیے۔

آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ اس کے خلاف کاروائی اج ہی شروع کریں گے۔

جسٹس اعجاز انور نے ہدایت کی کہ پشاور کے اندر احتجاج ہو یا باہر، سڑک بند نہیں ہونی چاہیے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے