متفرق خبریں

صحافی مطیع اللہ جان کی درخواست مسترد، دہشت گردی کی فردِ جُرم عائد کرنے کا فیصلہ

فروری 18, 2026

صحافی مطیع اللہ جان کی درخواست مسترد، دہشت گردی کی فردِ جُرم عائد کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کی ایک اور درخواست مسترد کرتے ہوئے اُن پر کل فردِ جُرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بدھ کو جج طاہر عباس سپرا نے مطیع اللہ جان پر درج کیے گئے دہشت گردی اور منشیات کے کیس کی سماعت کی۔

عدالت میں منشیات کے مقدمے میں دہشت گردی کے الزامات پر دائرہ اختیار چیلنج کیا گیا تھا جس کو جج نے مسترد کرتے ہوئے جمعرات کو فردِ جرم عائد کرنے کا حکم سنایا۔

جمعرات کو مطیع اللہ جان کی اسی مقدمے میں منشیات برآمدگی میں ویڈیو ثبوت نہ ہونے کے باجود فردِ جُرم عائد کیے جانے کو فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیے جانے کی درخواست کی بھی سماعت ہے۔

گزشتہ دو سماعتوں پر ہائیکورٹ نے استغاثہ (پولیس) کو فرانزک رپورٹ جمع کرانے کی مہلت دی اور وہ ناکام رہے۔

مطیع اللہ جان نے بدھ کو سماعت کے بعد ایکس پر پوسٹ کیا کہ حکومت اس جعلی کیس کو آگے لے کر چل رہی ہے جو کھلم کھلا صحافیوں اور صحافت پر دہشت گرد حملہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اُن کو 27 نومبر کو صحافی ثاقب بشیر کے ہمراہ اسلام آباد کے پمز ہسپتال سے لاپتہ کیا گیا اور پھر اُن کے خلاف یہ جعلی ایف آئی آر کاٹی گئی تھی۔

مطیع اللہ جان اُس وقت پی ٹی آئی کی احتجاجی ریلی پر فائرنگ سے مرنے والوں اور زخمیوں کے حوالے سے پمز ہسپتال سے رپورٹ کر رہے تھے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے