کراچی میں سی ٹی ڈی کی حراست میں قتل، حمدان بلوچ کے والد کی انکوائری کے لیے درخواست
کراچی میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی تحویل میں 17 فروری کو مبینہ مقابلے میں مارے گئے حمدان بلوچ کے والد محمد علی نے بیٹے کی ماورائے عدالت قتل کی انکوائری کی درخواست دی ہے۔
جمعے کو مقتول حمدان بلوچ کے والد محمد علی نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون، ڈی جی ایف آئی اے اور این سی ایچ آر کو ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (روک تھام اور سزا) ایکٹ 2022 کے تحت بیٹے کی موت/قتل کی تحقیقات کے لیے درخواست دی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت محکمے حراست میں ہونے والی اموات کی انکوائری کرنے کے پابند ہیں۔
حمدان کے والد کی درخواست کے مطابق اُن کے بیٹے کو گزشتہ برس دسمبر میں لاپتہ کیا گیا تھا۔ اُس کے بعد پانچ جنوری کو سی ٹی ڈی نے ایک ایف آئی آر میں گرفتاری دکھا کر حراست میں لینے کا دعویٰ کیا۔
درخواست کے مطابق حمدان بلوچ کو دو بار عدالت میں پیش کیا گیا تھا اور اُس کی اگلی پیشی 18 فروری کو تھی مگر ایک دن قبل جعلی مقابلے میں قتل کر کے میڈیا کے ذریعے خبر دی گئی۔
اہلخانہ کے مطابق ابھی تک سی ٹی ڈی کی حراست میں مارے جانے والے دو دیگر افراد جلیل اور نیاز کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا۔

