ایران پر حملوں کے خلاف احتجاج، پاکستان میں 26 ہلاک
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاکت کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں سکیورٹی اہلکار سمیت 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
اتوار کو گلگت بلتستان کے دو بڑے شہروں گلگت اور سکردو میں امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے پرتشدد مظاہروں میں بدل گئے۔ اور مظاہرین نے غیرملکی دفاتر، سرکاری و عسکری املاک کو نقصان نذرِآتش کر دیا۔
مظاہرین اور سکیورٹی فورسز میں تصادم کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار سمیت کل 14 افراد ہلاک ہو گئے۔
گلگت ہسپتال میں سات جبکہ سکردو ہسپتال میں سات لاشیں لائی گئی ہیں۔ سکردو ہسپتال کی انتظامیہ نے بتایا کہ کل 45 زخمی ہسپتال میں داخل ہیں جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ناک ہے، جبکہ گلگت ہسپتال میں کل 14 افراد زیرِعلاج ہیں۔
سکردو میں بگڑتی صورت حال کے تحت کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور گلگت اور سکردو کے تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گلگت میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔
کراچی میں شدید جھڑپیں
صوبہ سندھ کے داراحکومت کراچی میں ایرانی سپریم لیڈر کی امریکی حملے میں موت کے خلاف ہونے والا احتجاج اچانک پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہوگیا جس کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور 36 سے زائد زخمی ہوئے۔
آئی آئی چندریگر روڈ سے ٹاور تک جمع ہونے والے مظاہرین کی تعداد وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ہی دیر میں صورت حال کشیدہ ہونا شروع ہو گئی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو امریکی سفارت خانے کی حدود سے دور رکھنے کے لیے پہلے سے سکیورٹی انتظامات موجود تھے، تاہم کچھ افراد نے آگے بڑھنے کی کوشش کی جس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم شروع ہو گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق ’مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔‘
اسلام آباد میں مظاہرین منتشر
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے ڈی چوک اور سرینا چوک کے اطراف میں موجود مظاہرین کو منتشر کر دیا جبکہ سری نگر ہائی وے دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے۔
سہ پہر کو مظاہرین آبپارہ کے قریب جمع ہوئے اور پھر ڈپلومیٹک انکلیو میں امریکی سفارت خانے کی جانب مارچ کیا۔
تاہم شرکا کی جانب سے آگے بڑھنے پر ریڈ زون کے داخلی راستے بند کر دیے گئے اور پولیس نے مظاہرین کی پیش قدمی روک دی۔ بعدازاں مظاہرین نے ڈی چوک کی طرف رخ کیا جہاں پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔
پولیس کی جانب سے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور تین مظاہرین کے ہلاک ہونے کی غیرمصدقہ اطلاعات ہیں۔

