متفرق خبریں

پاکستان کا ایران کے خلاف قرارداد کے حق میں ووٹ، روس اور چین غیر حاضر

مارچ 12, 2026

پاکستان کا ایران کے خلاف قرارداد کے حق میں ووٹ، روس اور چین غیر حاضر

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ میں ’تمام فوجی کارروائیاں روکنے‘ کے مطالبے پر مبنی روسی قرارداد منظور نہ کی جا سکی۔

قرارداد میں تمام فریقین سے لڑائی روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا مگر یہ منظوری کے لیے مطلوبہ ووٹ حاصل نہ کر سکی۔

روسی قرارداد کے حق میں روس کے علاوہ پاکستان، چین اور صومالیہ نے ووٹ دیے تھے جبکہ امریکہ نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

برطانیہ، فرانس، بحرین، کولمبیا، کانگو، ڈنمارک، یونان سمیت دیگر نے قرارداد کے حق یا مخالفت میں ووٹ دینے سے اجتناب کیا یعنی غیر حاضر رہے۔

اجلاس کے دوران ایران نے دعویٰ کیا کہ خلیجی ممالک کے مسودے کی حمایت کرنے والے ملکوں نے دراصل اقوام متحدہ کے چارٹر کی بجائے اپنے سیاسی ایجنڈے کو ترجیح دی ہے جو کہ کونسل کے ریکارڈ پر ایک ’دھبہ‘ ہے۔
اجلاس کے دوران تہران نے روسی موقف کی تائید کی۔

ایرانی نمائندے امیرسعید ایروانی نے اسرائیل اور امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ حملہ آوروں کو متاثرہ فریق ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’یاد رکھیں آج ایران ہے، کل کوئی اور خودمختار ملک ہو سکتا ہے۔‘

انھوں نے اسرائیل اور امریکہ پر جنگی جرائم کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اس کی ذمہ داری خود ٹرمپ اور نیتن یاہو تسلیم کر چکے ہیں جبکہ ایران پر حملوں کے دوران ’1300 سے زیادہ شہری افراد ہلاک ہوئے ہیں۔‘

تہران کے نمائندے نے کہا کہ آج اس قرارداد کی منظوری ’کونسل کی ساکھ کے لیے ایک سنگین دھچکا اور اس کے ریکارڈ پر ایک مستقل دھبہ ہے۔‘

اسی دوران سلامتی کونسل نے ایک ایسی قرارداد منظور کی جس میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کی گئی۔ پاکستان نے اس قرارداد کی حمایت میں بھی ووٹ دیا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اجلاس میں اِن قراردادوں کے مسودے پیش کرنے پر بحرین اور روس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اسلام آباد اس تنازع کے فوری حل کا مطالبہ کرتا ہے۔

اجلاس میں روسی نمائندے نے خلیجی ممالک کی قرارداد پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’تعصب پر مبنی اور جانبدار ہے جسے سیاق و سباق کے بغیر پڑھنے سے یوں لگے گا جیسے تہران نے خطے بھر میں اہداف پر بلاجواز حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔‘

ایران کے خلاف منظور کی گئی خلیجی ممالک کی قرارداد میں تہران سے پڑوسی ملکوں پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

منظور کی گئی اس قراداد کی 135 ملکوں نے حمایت کی جو تاریخی اعتبار سے کسی قرارداد کے لیے کوسپانسرز کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

مسودہ پیش کرتے ہوئے بحرین نے کہا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی امن و توانائی کے استحکام میں خلیج کا کردار کتنا اہم ہے اور یہ کہ یہ محض کوئی علاقائی معاملہ نہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے