صحافی مطیع اللہ جان کے مقدمے میں اسلام آباد پولیس سے فرانزک رپورٹ گُم، جج کا انکوائری کا حُکم
اسلام آباد پولیس نے انسداد دہشت گردی کی مقامی عدالت کو بتایا ہے کہ صحافی و اینکر پرسن مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات برآمدگی اور دہشت گردی کے مقدمے میں پنجاب سائنس فرانزک لیبارٹی کی رپورٹ اُس کے ریکارڈ سے گُم ہو گئی ہے-
قبل ازیں پولیس حکام نے یہ رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ فرانزک رپورٹ منفی آئی ہے اور سینیئر صحافی سے برآمد مواد (جس کا دعویٰ کیا گیا تھا) منشیات نہیں-
مطیع اللہ جان پر یہ مقدمہ اُس واقعے کے اگلے دن بنایا گیا تھا جب وہ نومبر 2024 میں اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی ریلی پر فائرنگ میں مرنے اور زخمی ہونے والوں کی درست تعداد رپورٹ کرنے کے لیے پمز ہسپتال میں تھے جہاں سے اُن کو صحافی ثاقب بشیر کے ہمراہ رات گئے اغوا کیا گیا تھا- اغواکاروں نے بعد ازاں ثاقب بشیر کو سیکٹر آئی نائن کے قریب چھوڑ دیا تھا-
اسلام آباد ہائیکورٹ میں منشیات برآمدگی کی فرانزک رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد عدالت نے قرار دیا تھا کہ اس صورتحال میں ٹرائل کورٹ میں پولیس ضمنی چالان پیش کرے- اس سے قبل انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمع کرائے گئے چالان میں پولیس نے منشیات اور دہشت گردی کے الزامات عائد کیے تھے-
مطیع اللہ جان نے دونوں الزامات پر مبنی چالان کو چیلنج کیا تھا- ٹرائل کورٹ نے پہلے اُن کی منشیات برآمدگی جبکہ بعد ازاں دہشت گردی کے الزام کو ختم کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں-
سینیئر صحافی نے دونوں کو فیصلوں کے خلاف اپنے وکلا کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں الگ، الگ اپیلیں دائر کیں- ہائیکورٹ نے منشیات والے معاملے میں فرانزک رپورٹ آنے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے ہدایات جاری کیں جبکہ دہشت گردی کے حوالے سے ٹرائل کورٹ کے فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے پر اپیل تاحال زیرِسماعت ہے-
مطیع اللہ جان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو اس معاملے پر جلد فیصلہ کرنے کی استدعا کے ساتھ سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے جہاں اُن کی درخواست پر سماعت یکم اپریل کو تین رُکنی بینچ کرے گا-
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اسلام آباد مارگلہ سرکل کے دستخط کے ساتھ انسداد دہشت گردی عدالت میں جمع کرائے گئے ضمنی یا ترمیمی چالان میں کہا گیا ہے کہ پنجاب سائنس فرانزک لیبارٹری کی اصل رپورٹ خط وکتابت کے دوران کہیں گُم ہو گئی ہے اس لیے اُس کی نقول یا فوٹو کاپی کو عدالت فراہم کی جا رہی ہیں-
جج طاہر عباس سپرا نے اس ترمیمی چالان کو ملاحظہ کرنے کے بعد اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی انوسٹیگیشن کو ہدایت کی ہے کہ اس معاملے کی انکوائری کرائی جائے-

