فرانزک رپورٹ کیسے گم ہوئی، عدالت نے مطیع اللہ جان کے کیس میں پولیس افسر کو طلب کر لیا
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات و دہشت گردی کے کیس میں پولیس کی جانب سے فرانزک رپورٹ گُم ہونے کی انکوائری نہ کرانے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے-
جمعرات کو عدالت میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے صحافی و اینکر پرسن مطیع اللہ جان کے مقدمے میں منیشات کی فرانزک رپورٹ کی انکوائری کر کے تفصیل جمع نہ کیے جانے پر جج طاہر عباس سپرا نے برہمی کا اظہار کیا-
عدالت کی جانب سے پراسیکیوشن سے پوچھا گیا کہ ایس ایس پی انویسٹیگیشن نے تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کیوں نہیں کی؟
گزشتہ سماعت پر پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ مطیع اللہ جان کے مقدمے میں منشیات کی فرانزک رپورٹ گم ہو گئی ہے جس پر جج طاہر عباس سپرا نے ایس ایس پی انویسٹیگیشن کو تحقیقات کا حکم دیا تھا-
پولیس کی جانب سے عدالت میں فرانزک گُم ہونے کی انکوائری رپورٹ پیش نہیں کی گئی- جج طاہر عباس سپرا نے پوچھا کہ فرانزک رپورٹ گم ہونے پر پولیس نے تحقیقاتی رپورٹ پیش کیوں نہیں کی-
پراسیکیوٹر اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے اس پر خاموشی سامنے آئی-
اس دوران مطیع اللہ جان کے وکیل بیرسٹر احد کھوکھر نے جج طاہر عباس سپرا کو آگاہ کیا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے اُن کے مؤکل پر فردِ جرم عائد کرنے کے لیے دن مقرر کیا تھا مگر اب سپریم کورٹ نے اس کیس میں فرد جرم عائد کرنے سے روک دیا ہے-
جج طاہر عباس سپرا نے استغاثہ کی جانب رُخ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے آپ کے مؤکل پر فرد جرم عائد کرنے سے روکا ہے، پولیس کی رپورٹ گم ہونے پر تحقیقات سے تو نہیں روکا؟
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مطیع اللہ جان کے مقدمے میںفرد جرم کی حد تک ٹرائل روک دیا-
جج طاہر عباس سپرا نے پولیس حکام اور پراسیکیوشن کو خبردار کیا کہ اگر آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش نہ کی یا خود ایس پی پیش نہ ہوئے کہ فرانزک رپورٹ کیسے گم ہوئی تو وارنٹ گرفتاری جاری کروں گا-
جج طاہر عباس سپرا نے ایس ایس پی انویسٹیگیشن کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16 اپریل تک ملتوی کر دی-

