مشرق وسطیٰ میںمجوزہ جنگ بندی، پاکستانی آرمی چیف کا امریکی نائب صدر سے رات بھر رابطہ
بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایک مجوزہ جنگ بندی معاہدے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ساری رات رابطے میں رہ کر کردار ادا کیا۔
روئٹرز کے مطابق جنگ بندی کا یہ مجوزہ منصوبہ امریکہ اور ایران تک پہنچا دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ابھی تک بہت کم معلومات سامنے آئی ہیں، اور مکمل صورتحال واضح نہیں ہے۔
روئٹرز کے مطابق جنگ بندی کا فریم ورک امریکہ اور ایران کو دیا گیا ہے تاکہ تنازع ختم کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ دو حصوں پر مشتمل ہے-
جس کے پہلے حصے کے تحت فوری جنگ بندی کی جائے گی اور دوسرے حصے میں اس حوالے سے زیادہ جامع معاہدہ کیا جائے گا-
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی یہ رپورٹ امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کی اس خبر سے ملتی جلتی ہے جس کے مطابق ثالث 45 دن کی جنگ بندی پر بات کر رہے تھے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں تین ممالک یعنی پاکستان، مصر اور ترکیہ شامل ہیں-
روئٹرز کے مطابق کسی بھی معاہدے پر پہنچنے سے قبل ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار کیا ہے-
ایک سینیئر ایرانی عہدیدار روئٹرز کو بتایا کہ عارضی جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز سے بحری ٹریفک کو گزرنے نہیں دیا جائے گا-
یہ رپورٹس صدر ٹرمپ کی نئی ڈیڈ لائن کے بعد سامنے آئیں-
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو منگل کی رات آٹھ بجے تک آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
تاحال ابھی تک یہ واضح نہیں کہ مارچ کے آخر میں ایران کو دیا گیا 15 نکاتی منصوبہ کیا موجودہ تجویز سے کتنا مختلف ہے-

