مذاکرات میں شرکت کے لیے ایران کے جواب کا ابھی تک انتظار ہے: پاکستان
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مذاکرات میں شرکت کے لیے ایران کے جواب کا ابھی تک انتظار ہے-
منگل کی شام ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ بطور ثالث پاکستان سفارتکاری اور بات چیت جاری رکھنے کے لیے ایرانیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستانی وقت کے مطابق جنگ بندی کی مدت بدھ کی صبح چار بج کر 50 منٹ پر ختم ہو رہی ہے۔ لہذا ایران کی جانب سے اس سے قبل بات چیت میں شمولیت کا فیصلہ بہت اہم ہو گا۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے برطانیہ کے نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایرانی وفد کے اس ہفتے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کے لیے اسلام آباد کا سفر کرنے کا ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا۔
اُنھوں نے اپنی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی اور ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لینے کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کی ایران کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’ہم نیک نیتی اور سنجیدگی کے احساس کے ساتھ اس گفت و شنید میں گئے تھے، لیکن ایک مذاکراتی فریق ہے جس میں سنجیدگی اور نیک نیتی کی کمی ہے، وہ بار بار اپنی پوزیشن تبدیل کر رہے ہیں اور جنگی جرائم کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘
لیکن اسماعیل بقائی نے یہ نہیں بتایا کہ مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے کون سی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس پر مشاورت جاری ہے۔
بدھ کو جنگ بندی کی میعاد ختم ہونے سے پہلے مذاکرات کی بحالی کے لیے حالات پیدا کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

