سپریم کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواستوں پر سماعت کا احوال
پاکستان کی سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل میں قید کاٹنے والی ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواستوں پر متعلقہ عدالت کو دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے-
منگل کی صبح سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ میں جسٹس شاہد وحید کی سربراہی اور جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شفیع صدیقی پر مشتمل عدالت نے درخواستوں کی سماعت کی-
دونوں اسیر وکلا کی جانب سے ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے عدالتی بینچ کو بتایا کہ دو درخواستیں آپ کے سامنے زیر التوا ہیں- وکیل کا مؤقف تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ مقدمے کو لٹکا رہی ہے-
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے مقدمے کا ٹرائل شرمناک انداز میں کیا گیا اور سزا سنائی گئی-
بینچ کے سربراہ نے اس پر کہا کہ ممکن ہے کہ ٹرائل غلط ہوا ہو لیکن اس میں دی گئی سزا پر ابھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلیں زیر التوا ہیں اور نوٹس جاری ہو چکے ہیں-
ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے بینچ کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ مخصوص حالات میں ریلیف کا راستہ نکل سکتا ہے، وہاں 60 دن کے انتظار کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا- ان کا کہنا تھا کہ ایڈووکیٹ ہادی علی اور ایمان مزاری کو فروری میں سزائیں ہوئیں، دو مرتبہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ڈوگر کے سامنے جلد سماعت کی درخواستیں گئیں لیکن انہوں نے مسترد کر دیں-
جسٹس شاہد وحید نے وکیل سے پوچھا کہ کیا وہ اس پر مطمئن ہو جائیں گے کہ سپریم کورٹ یہ کہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کی سماعت جلد کرے، ابھی تک اپیلوں پر ہائیکورٹ سے خلاف فیصلہ تو نہیں آیا- کیونکہ ابھی آپ کی سزا معطلی کی درخواست زیر التوا ہے-
جسٹس شفیع صدیقی نے وکیل سے کہا کہ عدالت نے قانون کے مطابق چلنا ہے، اس وقت یہ کیس اس حد تک سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار نہیں کہ سزا معطلی پر فیصلہ کرے- کیا یہ عدالت اسلام آباد ہائیکورٹ کو احکامات دے کہ وہ مرکزی اپیلوں پر فیصلہ کرے؟
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ان کی جانب سے سزا معطلی کی درخواستوں کو مرکزی اپیلوں سے قبل سنا جائے کیونکہ یہ قانونی حق ہے-
جسٹس شاہد وحید نے اس موقع پر آبزرویشن دی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو دو ہفتے میں فیصلے کا حکم دے دیتے ہیں جس پر وکیل نے کہا کہ دو ہفتوں کا وقت زیادہ ہے سات میں سزا معطلی کی اپیلوں پر فیصلہ کیا جانا چاہیے کیونکہ پہلے ہی بہت تاخیر کی جا چکی ہے-
بینچ کے سربراہ جسٹس شاہد وحید نے جسٹس نعیم اختر افغان کی مشاورت سے ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کو ضابطہ فوجداری سیکشن 426 پڑھنے کی ہدایت کی جس میں کہا گیا ہے کہ اگر سزا معطلی کی درخواست کی سماعت میں قانونی تاخیر ہو اور سزا کا دورانیہ 7 سال سے زیادہ ہو تو سزا یافتہ شخص دو سال بعد ضمانت کا حقدار ہو سکتا ہے-
جسٹس نعیم اختر افغان نے وکیل سے کہا کہ ان کو تو ابھی درخواست دائر کیے 60 دن ہوئے ہیں- وکیل فیصل صدیقی نے اس پر کہا کہ وہ قانونی تاخیر کی بنیاد پر ضمانت نہیں مانگ رہے بلکہ اُن کا کیس تو معروضی حالات کے جائزہ اور ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دی گئی سزا اور ٹرائل میں شکوک و شبہات کی بنیاد پر ضمانت کا ہے-
جسٹس شفیع صدیقی نے آبزرویشن دی کہ فیصلے کے درست یا غلط ہونے کا تعین اسلام آباد ہائیکورٹ کرے گی جبکہ بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ اس موقع پر کیس کے حقائق یعنی میرٹس کو نہیں دیکھ سکتی-
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اُن کے پاس اسلام آباد ہائیکورٹ کے بعد یہی عدالت ہے جہاں وہ آ سکتے ہیں-
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پاس اس وقت اس کیس میں یہ آپشن ہے کہ درخواستوں کو نمٹا دے اور ہائیکورٹ کو سزا معطلی کی اپیلوں پر جلد سماعت کے لیے کہے-
وکیل فیصل صدیقی نے بینچ سے استدعا کی کہ درخواستیں زیرالتوا رکھ کر ہائیکورٹ کو ہدایات دی جائیں، اسلام آباد ہائیکورٹ درخواستیں مسترد ہی کرے گی لیکن کم از کم فیصلہ تو دے-
ان کا کہنا تھا کہ اس صورت میں ان پر سپریم کورٹ کا "سایہ” ہو گا جس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ اب تو دو سائے ہو گئے ہیں، ایک سپریم کورٹ کا اور دوسرا وفاقی آئینی عدالت کا، سارے وکلا آئینی عدالت میں بھی پیش ہوتے ہیں، پارلیمنٹ نے وہ عدالت بنائی ہے تو اس کا احترام ہونا چاہیے-
بینچ کی جانب سے تحریری آرڈر لکھوانے کے بعد جسٹس شفیع صدیقی نے وکیل فیصل صدیقی سے کہا کہ آج انہوں نے عدالت کا زیادہ وقت لے لیا ہے- جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ایڈووکیٹ ایمان مزاری اُن کی بہن جیسی ہیں- بینچ کے سربراہ جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ وہ سب سے پہلے اس ملک کی بیٹی ہیں-

