’آزاد کشمیر میں لاوا پک رہا ہے‘، خواجہ سعد رفیق کا بیڈ گورننس اور مداخلت پر انتباہ
پاکستان کے سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’خطے میں بیڈ گورننس، کرپشن اور سیاسی مداخلت نے عوامی بے چینی کو انتہا پر پہنچا دیا ہے۔‘
خواجہ سعد رفیق نے ’ایکس‘ اپنے ایک حالیہ بیان میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انتظامی اور سیاسی ڈھانچے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے عوامی مطالبات ’گہری توجہ، غور و فکر اور جامع حکمت عملی کی تشکیل کے طلب گار ہیں‘۔
سابق وفاقی وزیر نے کشمیریوں کی پاکستان سے وابستگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’کشمیری ہم سے بڑے پاکستانی ہیں، پاکستان سے محبت ان کے خمیر اور ایمان کا حصہ ہے‘۔
انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’افواج پاکستان میں کشمیریوں کی نمائندگی نہایت تسلی بخش ہے جو ان کی پاکستان کے ساتھ کمٹمنٹ کا بڑا ثبوت ہے‘۔
تاہم انہوں نے شکوہ کیا کہ پاکستان کی سول سروس اور جوڈیشل سسٹم میں آزاد کشمیر کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔
ان کے بقول ’بصد معذرت وہاں کا عدالتی نظام پاکستان کے دیگر حصوں سے بھی گیا گزرا ہے۔‘
آزاد کشمیر کی سیاست میں وفاق کی مداخلت پر بات کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے سخت الفاظ استعمال کیے۔
انہوں نے کہا کہ ’خطۂِ کشمیر میں منتخب حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ اور ڈمی حکومتیں بنانے کا مکروہ عمل آزاد کشمیر پر کسی آفت سے کم نہیں رہا‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے میں علاقے میں ایک لاوا پکتا ہوا دیکھ رہا ہوں جس کے لیے سالوں سے ذہن سازی جاری تھی لیکن بدترین گورننس نے عوامی سوالات اور بے چینی کو بڑھاوا دیا ہے۔‘
خواجہ سعد رفیق نے خطے میں روزگار کی کمی اور بنیادی سہولیات کے فقدان پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ’بیڈ گورننس، کرپشن، اقربا پروری اور صوبوں کی نسبت بہت کم اختیارات نے باشندوں میں بے چینی بڑھا دی ہے۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، کشمیریوں کو محنت مزدوری کے لیے کراچی، لاہور اور راولپنڈی تک جانا پڑتا ہے۔ سیاحت، مقامی صنعتوں، معدنیات اور آبی وسائل کی ترقی پر کما حقہٗ توجہ نہیں دی جا سکی۔‘
آئندہ انتخابات کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ ’لازم ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات ہر مداخلت سے آزاد ہوں۔‘
انہوں نے سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ ’نو دولتیوں اور شوقیہ فنکاروں کی بجائے جینوئن سیاسی کارکنوں کو ٹکٹ دیں جن کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہوتا ہے۔‘
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور ریاستی ادارے اپنی ’نفرتوں، کدورتوں اور انتقامی رویوں سے آزاد کشمیر کو پاک رکھیں‘ اور وہاں وفاقی گرانٹس کو شفافیت سے خرچ کیا جائے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ تین برسوں سے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے عوامی حقوق کے لیے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور ایک زائد مرتبہ احتجامی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں اور ہلاکتوں کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے وفاقی حکومت کے ساتھ معاہدے کے تحت مطالبات منظور نہ کیے جانے کے خلاف نو جون کو ریاست گیر احتجاج کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

