اہم خبریں

اسلام آباد کے تاجر کا اغوا برائے تاوان کا ’ڈرامہ‘ جو کراچی کے ساحل پر ’فلمایا گیا‘

مئی 19, 2026

اسلام آباد کے تاجر کا اغوا برائے تاوان کا ’ڈرامہ‘ جو کراچی کے ساحل پر ’فلمایا گیا‘

اسلام آباد پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر اغوا برائے تاوان کے واقعے کی وائرل ویڈیو میں‌ جس جگہ کو جنوبی پنجاب کے کچے کا علاقہ دکھایا گیا ہے وہ کراچی کا ساحل ہے-

رواں ماہ کے آغاز پر اسلام آباد سے ایک تاجر کے مبینہ اغوا کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں‌ وہ چترال زبان میں‌ مدد کی اپیل کر رہے تھے-

اسلام آباد پولیس نے اپنی تفتیش کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ویڈیو میں‌ موجود مناظر کا جائزہ لے کر مقدمے کا سراغ لگایا اور ملوث چار افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں مبینہ مغوی تاجر بھی شامل ہے۔

سوشل میڈیا پر موجود اس ویڈیو میں دو افراد مغوی نورالدین زنگی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ویڈیو میں ایک شخص کے ہاتھ میں چھڑی ہے، جس سے وہ مغوی پر تشدد کر رہا ہے جبکہ دوسرا مبینہ اغواکار اسلحہ تان کر کھڑا ہے۔

ویڈیو میں مغوی تاجر مبینہ اغوا کاروں کے مطالبے کو دہرا رہا ہے کہ رہائی کے لیے پانچ کروڑ روپے ادا کیے جائیں ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔

اس ویڈیو سے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ ملزمان مغوی کو جنوبی پنجاب کے کچے کے علاقے میں لے گئے اور کسی نامعلوم مقام پر قید کر کے اس کے اہلِ خانہ سے تاوان مانگ رہے ہیں۔

نورالدین زنگی کے اس مبینہ اغوا کا مقدمہ ان کے بھائی سیف الدین کی مدعیت میں‌ تھانہ آبپارہ میں‌ درج کیا گیا تھا-

مقدمے کے مدعی نے تصدیق کی تھی کہ انھیں 10 مئی کو ان کے بھائی کے فون سے ڈاکوؤں کی طرف ان کی رہائی کے بدلے پانچ کروڑ تاوان کی کال موصول ہوئی۔

تھانہ آبپارہ میں یکم مئی کو درج کیے مقدمے میں مدعی سیف الدین نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ چند نامعلوم افراد نے ان کے بھائی نورالدین زنگی کو اغوا کر لیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق تفتیش کے آغازمیں پتہ چلا کہ نورالدین لاپتہ تھے جبکہ ان کی گاڑی سری نگر ہائی وے کے قریب کھڑی تھی اور اس میں چابی بھی لگی ہوئی تھی-

تفتیش میں‌ معلوم ہوا کہ پانچ مئی تک نورالدین کا موبائل بند رہا، اور چھٹے روز جب موبائل آن ہوا تو اس کی لوکیشن راجن پور کے علاقے روجھان کی نظر آئی-
اسلام آباد پولیس نے پنجاب میں‌ رحیم یار خان اور راجن پور پولیس سے رابطہ کیا تھا جس کے بعد وہاں تحقیقاتی ٹیم کو معلوم ہوا کہ مبینہ مغوی نورالدین اپنے دوست ضیا سے ملنے رحیم یار خان گئے تھے اور بعد ازاں کراچی چلے گئے۔

پولیس نے مغوی کے دوست ضیا سے معلومات حاصل کرنے کے بعد نورالدین کے ایک اور دوست کو حراست میں لیا جو ویڈیو میں اسلحہ تھامے نظر آیا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق تفتیش میں‌ یہ بات سامنے آئی کہ نورالدین نے ہمدردی حاصل کرنے اور قرض دہندگان کے دباؤ سے بچنے کے لیے اغوا کا ڈرامہ کیا۔

مقدمے کے مدعی کو جب تاوان کے لیے مغوی بھائی کی مبینہ اغواکاروں کے ہاتھوں ویڈیو موصول ہوئی تو انھوں نے پولیس کو فراہم کی جس کے تجزیے سے تفتیش آسان ہوئی-

پولیس نے ویڈیو بھیجنے والے نمبر کا ڈیجیٹل فارنزک کرایا تو معلوم ہوا کہ ویڈیو کراچی کے علاقے فقیر گوٹھ میں‌ موجود انٹرنیٹ کنکشن استعمال کرتے ہوئے بھیجی گئی۔

تجزیے سے پتا چلا کہ ویڈیو کے پس منظر میں بہت زیادہ پانی ہے جو کچے کے علاقے کے برعکس کراچی کے ساحلی علاقے کا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے