بھوپال میں اداکارہ ٹوئشا شرما کی موت پر سپریم کورٹ کے نوٹس کے بعد ساس گرفتار
انڈیا میں سینٹرل بیورو آف انویسٹگیشن (سی بی آئی) نے رواں ماہ کے اوائل میں مرنے والی اداکارہ ٹوئشا شرما کی ساس کو گرفتار کر لیا ہے۔
ٹوئشا شرما کے والدین نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی بیٹی کو ان کے وکیل شوہر سمرتھ سنگھ اور ریٹائرڈ جج ساس گیریبالا سنگھ نے جہیز کے مطالبے کے بعد قتل کیا۔
سی بی آئی نے متوفیہ ٹوئشا کی ساس کو گرفتار کر کے کئی گھنٹوں تک ان سے تفتیش کی۔ 12 مئی کو مدھیہ پردیش کے وسطی شہر بھوپال میں ٹوئشا شرما کی موت نے غیر معمولی میڈیا توجہ حاصل کی تھی۔
33 سالہ ماڈل اور اداکارہ کی شادی صرف پانچ ماہ قبل وکیل سمرتھ سنگھ سے ہوئی تھی لیکن چند روز قبل وہ اپنے سسرالی گھر میں مردہ پائی گئی تھیں۔
اداکارہ کے والدین اور بہن بھائیوں نے الزام لگایا کہ انہیں سمرتھ سنگھ اور ان کی والدہ ریٹائرڈ جج گیریبالا سنگھ کی جانب سے جہیز کے مطالبات پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انھیں قتل کیا گیا۔
گیریبالا سنگھ نے ان الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ٹوئشا کو ذہنی صحت کے مسائل تھے اور اُنھوں نے خودکشی کی۔
دوسری جانب انڈیا کی سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیا اور دونوں خاندانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ میڈیا اور عوامی سطح پر بیانات دینے سے گریز کریں۔
سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ متاثرہ اور ملزم کے خاندانوں کو چاہیے کہ وہ تحقیقاتی ادارے کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کروائیں تاکہ تحقیقات پر کسی قسم کا منفی اثر نہ پڑے۔
’ہم میڈیا سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ ایسے افراد کے بیانات ریکارڈ کرنے سے گریز کرے جو ممکنہ گواہ یا ممکنہ ملزمان ہو سکتے ہیں کیونکہ اس سے تحقیقات کے نتائج پر غیر ضروری اثر پڑ سکتا ہے جبکہ متعدد پہلو ابھی زیرِ تفتیش ہیں۔ ہم عوام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ قیاس آرائی سے گریز کریں اور ملک کی اعلیٰ تحقیقاتی ایجنسی پر اعتماد رکھیں، جو مناسب وقت کے اندر اس تحقیقات کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائے گی۔‘
اس سے قبل ٹوئشا شرما کے خاندان کے وکیل انوراگ شریواستو نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا تھا کہ ’سماعت بہت اچھی رہی۔ یہ انتہائی متنازع اور حساس کیس تھا اور ٹوئشا کے خاندان کو اس بات پر اطمینان ہے کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے کا نوٹس لیا۔
’نئی دہلی کے اے آئی آئی ایم ایس کی ایک خصوصی ٹیم نے ٹوئشا کا دوسرا پوسٹ مارٹم کیا۔ یہ کیس میں اہم مثبت پیش رفت ہے۔ دوسری بات یہ کہ خاندان اس بات پر بھی مطمئن ہے کہ مدھیہ پردیش حکومت نے خود اس معاملے کی سی بی آئی سے تحقیقات کروانے کے لیے اقدام کیا۔ ان کی بنیادی تشویش یہ تھی کہ منصفانہ اور آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے کیس کو جلد از جلد سی بی آئی کے حوالے کیا جائے۔‘

