اہم

پاکستان کا میزائل پروگرام، امریکی وزیر دفاع کے جواب پر اسلام آباد خوش

مئی 31, 2026

پاکستان کا میزائل پروگرام، امریکی وزیر دفاع کے جواب پر اسلام آباد خوش

امریکی وزیرِ دفاع کی جانب سے پاکستان کے میزائل پروگرام پر سوال کے جواب کو اسلام آباد میں سراہا جا رہا ہے اور حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے جڑے صحافی و تجزیہ کار اس پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں-

امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سوال کے جواب میں سابقہ امریکی انٹیلیجنس خدشات دہرانے کے بجائے اسلام آباد کو براہِ راست امریکہ کے لیے خطرہ قرار دینے سے گریز کیا تھا-

سنگاپور میں ہونے والے ایشیا کا ایک اہم اور بااثر سکیورٹی فورم شنگریلا ڈائیلاگ میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے امریکہ کی ایشیا پالیسی اور علاقائی سکیورٹی کے وسیع تر تناظر پر گفتگو کی۔

اس دوران گفتگو میں ان سے پاکستان کے ممکنہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل پروگرام اور انڈیا کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تجربات کے بارے میں سوال کیا گیا تو ہیگسیتھ نے کسی بھی ملک کو امریکہ کے لیے فوری یا براہِ راست خطرہ قرار دینے سے گریز کیا۔

انھوں نےجواب میں کہا کہ ’میرے خیال میں دونوں ایک دوسرے کے بارے میں سکیورٹی خدشات رکھتے ہیں، جو کسی حد تک قابلِ فہم ہیں اور جن میں سے کچھ کو ہم مختلف انداز میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔‘

امریکی سکیرٹری دفاع نے واشنگٹن کی موجودہ پالیسی کے مطابق کسی بھی فریق کو براہِ راست امریکہ کے لیے خطرہ قرار نہیں دیا اور کہا کہ ’ہماری طرف سے، کم از کم اس وقت، ہم نہ انڈیا اور نہ ہی پاکستان کی طرف انگلی اٹھا رہے ہیں اور نہ ہی انھیں امریکہ کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔‘

ہیگسیتھ نے مزید کہا کہ دونوں ممالک نے اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے دنیا میں امن کے لیے جو مثبت کردار ادا کیا، اس کے لیے ہم شکرگزار ہیں۔

پاکستان کا میزائل پروگرام اور اس کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیتیں ایک ایسا موضوع ہے جو حالیہ برسوں میں امریکی سٹریٹجک حلقوں میں بار بار زیرِ بحث رہا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے