اہم خبریں

سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود ہائیکورٹ میں‌ سماعت بغیر کارروائی ملتوی

جون 1, 2026

سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود ہائیکورٹ میں‌ سماعت بغیر کارروائی ملتوی

سپریم کورٹ کی جانب سے دو ہفتوں‌ کی مہلت دیے جانے کے باوجود ‏اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹویٹس کیس میں‌ وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت 4 جون تک ملتوی کر دی ہے-

پیر کو عدالت میں سپیشل پراسیکیوشن ٹیم کی عدم دستیابی کے باعث کیس کی سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کی گئی-

جسٹس اعظم خان نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواستوں پر سماعت شروع کی تو عدالت کو بتایا گیا کہ سرکاری استغاثہ (پراسیکیوشن ٹیم) کے تین ممبرز تعینات ہوئے ہیں وہ ابھی دستیاب نہیں ہیں-

پراسیکیوٹر نے بتایا کہ سرکاری وکلا کی ٹیم کے ایک رکن نے لاہور سے آنا ہے جبکہ دوسرے اس وقت چیف جسٹس کی عدالت میں ہیں-

جسٹس اعظم خان نے کہا کہ اُن کا نام میڈیئیشن ٹریننگ کے لیے نامزد ہوا، اور وہ صرف اس کیس عدالت میں یہاں موجود ہیں-

جسٹس اعظم خان نے پراسیکیوٹر سے کہا کہ آپ کو پتہ ہے اس کیس میں سپریم کورٹ کا آرڈر ہے؟

جیل میں‌ سزا کاٹنے والے وکلا کی نمائندگی کرنے والے ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دیا گیا وقت ختم ہو چکا ہے-

جسٹس اعظم خان نے کہا کہ یہاں‌ اس عدالت میں‌ سپریم کورٹ کے آرڈر کی روشنی میں یہ درخواستیں لگائی ہیں، میں نے صبح 8.30 کی اپنی ٹریننگ کلاس مِس کر دی-

ایمان مزاری اور ہادی علی کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت سے استدعا کی کہ پراسیکیوٹر جب کورٹ ون سے فارغ ہو جائیں اس وقت یہ عدالت کیس سن لے-

پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ اس کیس کو جمعرات یا آئندہ پیر کو سماعت کے لیے مقرر کر لیا جائے- جس پر جسٹس اعظم خان نے وکیل فیصل صدیقی سے پوچھا کہ کیا وہ جمعرات کو دستیاب ہوں گے؟ میں جمعرات کے لیے کیس رکھ رہا ہوں-

فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ پراسیکیوشن کو پابند کر دیں کہ مزید التوا نہیں مانگیں گے، جس پر جسٹس اعظم خان نے کہا کہ اب بار بار کہنا اچھا تو نہیں لگتا، سپریم کورٹ کے آرڈر کے ہم سب پابند ہیں-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے