اہم خبریں متفرق خبریں

جاپان میں‌ بھی ’غیرقانونی اور بلااجازت‘ مسجد، میئر نے ’ناقابل برداشت‘ قرار دیا

جون 3, 2026

جاپان میں‌ بھی ’غیرقانونی اور بلااجازت‘ مسجد، میئر نے ’ناقابل برداشت‘ قرار دیا

جاپان کے شہر کاواگوے کی میئر نے کہا ہے کہ اُن کے شہر میں‌ بسنے والے مسلمانوں نے غیرقانونی طور پر مسجد تعمیر کر لی ہے-

میئر ہتسوئی موریتا نے پریس کانفرنس میں شہر کی ’جامع مسجد رمضان‘ کے حوالے سے بتایا کہ ’یہ غیرقانونی تعمیر ہے جسے اربن ڈویلپمنٹ کنٹرول ایریا میں بغیر اجازت بنایا گیا ہے اور پالیسی کے تحت ہم موجودہ صورتحال برداشت نہیں کر سکتے۔‘

دسمبر 2024 میں جاپانی امیگریشن ایجنسی کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق ملک میں اس وقت 30 ہزار سے زیادہ پاکستانی شہری رہائش پذیر تھے جبکہ پیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق سنہ 2020 تک جاپان کی تقریباً ایک فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔

مسجد کی افتتاحی تقریب ڈیڑھ ماہ قبل منعقد ہوئی تھی جس میں ٹوکیو میں پاکستانی سفیر عبدالحمید بھی شریک ہوئے تھے۔

پاکستانی سفارتخانے نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی سفیر نے اُن معلومات کی بنیاد پر دعوت نامہ قبول کیا تھا کہ مسجد کی تعمیر کے لیے جاپانی قانون کے مطابق تمام اجازت نامے حاصل کیے گئے تھے۔‘

جاپانی حکام کی جانب سے ’بلا اجازت‘ تعمیر کی گئی اس مسجد کے بارے میں کاواگوے کی میئر نے شہریوں کو اس مسئلے کے فوری حل کا یقین دلایا ہے۔

جاپانی اخبار سانکے کے مطابق یہ مسجد ایسی جگہ بنائی گئی ہے جو باہر سڑک سے نظر نہیں آتی اس لیے حکام کو اس کے بارے میں‌ تعمیرات مکمل ہونے پر ایک شہری کی جانب سے آگاہ کیا گیا-

مقامی شہری انتظامیہ نے یہ نہیں‌ کہا کہ زمین کی ملکیت غیرقانونی ہے تاہم اس اراضی پر تعمیرات کی اجازت نہیں‌ لی گئی تھی-

حکام نے کہا ہے کہ اس عمارت میں کسی بھی قسم کی اجتماع کی اجازت نہیں‌ دی جائے گی-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے