یورپی ملک سپین کے دو شہر براعظم افریقہ میں کیوں ہیں؟
سپین کے پاس افریقہ میں دو شہر کیوں ہیں؟
شمالی افریقہ کے ساحل پر کھڑے ہو کر پار دیکھیں تو بحیرہ روم میں دو شہر نظر آتے ہیں، لیکن یہ افریقی علاقے میں نہیں ہیں۔
دراصل، یہ سیوٹا اور میلیلا ہیں جن کو سپین کے خودمختار علاقوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ صدیوں سے سپینی علاقے کا حصہ ہیں، اور میڈرڈ اصرار کرتا ہے کہ یہ اسی طرح رہیں۔ لیکن مراکش کی حکومت اس سے متفق نہیں اور بار بار ان کے واپس لینے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔
یہ دو منفرد سپینی مقامات 1500 کی دہائی سے جنگوں، تنازعات، اور سفارتی جھگڑوں کا موضوع رہے ہیں۔ حال ہی میں واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک نے امریکی حکومت سے کہا ہے کہ دونوں علاقوں کو مقبوضہ مراکشی علاقے قرار دیا جائے۔
یہ دونوں شہر اتنے تنازعے کا موضوع کیوں ہیں، اور ان کی مشترکہ تاریخ کیا ہے؟
دو شہروں کی دلچسپ کہانی
یورپ کے دو سب سے غیرمعمولی مقامات بالکل یورپ میں نہیں ہیں۔ اس کے بجائے، وہ شمالی افریقہ کے ساحل پر واقع ہیں۔ ہم سیوٹا اور میلیلا کی بات کر رہے ہیں، سپین کے دو خود مختار شہر جو بحیرہ روم میں نظر آتے ہیں۔
میلیلا، دونوں شہروں میں سے تھوڑی چھوٹی ریاست ہے جس کی آبادی صرف 87,000 سے زیادہ ہے، کو سب سے پہلے 1497 میں سپین نے قبضے میں کیا اور بالآخر اسے ہسپانوی تاج میں شامل کر لیا گیا۔
سیوٹا، جو مشہورِ زمانہ جبل الطارق کے سامنے ہے، میلیلا کی نسبت رقبے میں بڑا ہے لیکن اس کی آبادی صرف 83,000 سے کچھ زیادہ ہے۔ یہ خطہ 1668 میں لاس اینجلس میں کیے گئے معاہدے کے ذریعے سپین کو منتقل کیا گیا تھا۔ میلیلا اور سیوٹا دونوں کو سپینی علاقے کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے۔
مراکش میں ان دونوں شہروں کو مقبوضہ سبطہ اور ملیلہ کہتے ہیں۔ اور افریقہ کے مین لینڈ پر یورپی علاقے کے واحد ٹکڑے کے طور پر، مراکش مسلسل ان کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے، جیسا کہ مراکش کی آزادی کے بعد 1956 میں دیگر ہسپانوی نوآبادیاتی علاقے واپس کیے گئے تھے۔
دونوں نواحی علاقوں کی تاریخ قدیم دور تک پھیلی ہوئی اور پیچیدہ ہے۔ اور موجودہ حیثیت کو سمجھنے کے لیے دونوں کے ماخذات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

