تمام فریقین امن کے حصول کے لیے تحمل کا مظاہرہ کریں: پاکستانی وزیراعظم
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امن کے حصول کے لیے تحمل کا مظاہرہ کریں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ’حتمی مقصد حاصل ہونے کے قریب ہو۔‘
اس سے قبل ایران کی فوج نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل پر حملے روک دے گی تاہم اس نے خبردار کیا تھا کہ اگر لبنان پر حملے جاری رہے تو ایران پہلے سے زیادہ سخت جواب دے گا۔
اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل ’ٹرمپ کی درخواست پر‘ ایران پر حملے روک دے گا۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں شہباز شریف نے کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں تشدد میں حالیہ اضافہ اس خطرے کی واضح یاد دہانی ہے جو ایک نازک جنگ بندی سے وابستہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ناقابلِ برداشت نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔‘
’جب ہم اپنے بھائیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس تنازع کے پرامن سفارتی حل کے لیے سنجیدگی اور مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں اور خاص طور پر ایسے وقت میں جب حتمی مقصد حاصل ہونے کے قریب ہو، تو ہم خلوصِ دل سے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور امن کو ایک اور موقع دینے کی اپیل کرتے ہیں۔‘
پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم ثالث رہا ہے۔
پاکستان کی ثالثی میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان مذاکرات کا ایک دور 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا۔

