عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی مگر ذخائر کی بحالی میں تاخیر
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی خبر سامنے آنے کے بعد ایشیائی مارکیٹس میں کاروبار کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت 3.8 فیصد کمی کے بعد 84.02 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے، جبکہ امریکی منڈی میں فروخت ہونے والا تیل 4.1 فیصد کمی کے ساتھ 81.40 ڈالر فی بیرل تک گِر گیا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی تیل کے ذخائر کو بحال ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔
بی بی سی کے تجزیہ کار ڈیوڈ واڈل کے مطابق اگرچہ کچھ آئل ٹینکرز پہلے ہی خلیج کی جانب روانہ ہونے کے لیے تیار ہیں، لیکن کئی شپنگ کمپنیاں ممکنہ طور پر معاہدے پر عملی طور پر عملدرآمد اور کشیدگی میں کمی کے واضح آثار کا انتظار کریں گی۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری آئل کمپنی ایڈنوک کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مربوط امن معاہدہ ہو جائے تب بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی مکمل ترسیل آئندہ برس کی پہلی یا دوسری سہ ماہی تک بحال نہیں ہو سکے گی۔
مارچ میں انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے اعلان کیا تھا کہ اس کے رکن ممالک اپنے سٹریٹجک ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کریں گے۔ اس میں سے ایک تہائی سے زیادہ استعمال کیا جا چکا ہے۔
اگرچہ تیل پیدا کرنے والے ممالک سب سے پہلے عالمی طلب (تقریباً 104 ملین بیرل یومیہ) کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے، تاہم ان ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں کئی ماہ لگیں گے۔

