اہم خبریں

فوجی نظامِ انصاف پر عدم اعتماد، کینیڈا نے جنسی جرائم کے مقدمات فوج سے واپس لے لیے

جون 16, 2026

فوجی نظامِ انصاف پر عدم اعتماد، کینیڈا نے جنسی جرائم کے مقدمات فوج سے واپس لے لیے

سہیل طارق، کینیڈا

کینیڈین حکومت نے فوج کے اندر انصاف کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ملٹری پولیس کو ضابطہ فوجداری (Criminal Code) کے تحت جنسی جرائم کی شکایات وصول کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
یہ اقدام حکومت کے ملٹری جسٹس سسٹم میں اصلاحات سے متعلق بل کی متوقع منظوری کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔

بل C-11 کے تحت فوج کے جن ارکان سے جنسی جرائم ملک کے اندر سرزد ہوں گے ان کی تفتیش اور مقدمہ چلانے کا اختیار فوج سے واپس لے لیا جائے گا، اور ایسے تمام کیسز سول عدالتی نظام کے حوالے کر دیے جائیں گے تاکہ شفاف اور غیرجانبدار انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ قانون سازی سابق سپریم کورٹ ججوں مورس فِش اور لوئیس آربر کی سفارشات کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ لوئیس آربر نے 2022 میں جاری اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ کینیڈین آرمڈ فورسز کے ارکان کو جنسی جرائم جیسے حساس معاملات میں اپنے ہی فوجی عدالتی نظام پر اعتماد نہیں۔

دوسری جانب فوج میں جنسی بدسلوکی سے متاثرہ بعض افراد نے بھی پارلیمنٹیرینز کو بتایا تھا کہ وہ چاہتے ہیں متاثرین کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ ان کا کیس فوجی یا سول عدالتی نظام میں سنا جائے۔

اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ نے اس مقصد کے تحت قانون میں ترمیم پیش کی، تاہم House of Commons میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد لبرل حکومت نے ان ترامیم کو حذف کر دیا ہے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے